چیف جسٹس نے اپنے خطاب میں اہم قومی ایشو کی نشاندہی کی: عوامی تحریک
سب سے بڑے منصف نے قوانین پر عملدرآمد کے بحران کی نشاندہی کی جو
ایک تلخ حقیقت ہے
چیف جسٹس نے درست کہا مینڈیٹ کے تقاضے پورے نہیں ہورہے، ممبران کور کمیٹی
لاہور
(3 نومبر 2015) پاکستان عوامی تحریک کی سنٹرل کور کمیٹی کے ممبرز بریگیڈیئر (ر) محمد
مشتاق، ڈاکٹر ایس ایم ضمیر اور مخدوم ندیم ہاشمی نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور
ظہیر جمالی کے سینیٹ سے خطاب پر کہا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے اپنے خطاب میں اہم
قومی ایشو کی نشاندہی کی سب سے بڑے منصف نے قوانین پر عملدرآمد کے بحران کی طرف اشارہ
کیا جو ایک تلخ حقیقت اور پاکستان کا اس وقت بڑا مسئلہ ہے۔ بریگیڈیئر (ر) محمد مشتاق
نے کہا کہ یہ بات درست ہے عوامی مینڈیٹ کے تقاضے پورے نہیں ہو رہے اور عوامی نمائندے
خود کو جوابدہ نہیں سمجھتے۔ آئین و قانون کی عمل داری یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری
ہے جو اس میں ناکام ہے۔ ڈاکٹر ایس ایم ضمیر نے کہا کہ چیف جسٹس کو پارلیمنٹرین کی کلاس
لیتے رہنا چاہیے تاکہ انہیں اصل ذمہ داریاں یادآسکیں۔ انہوں نے کہا کہ پاپولیشن، قوانین
کا یکساں نفاذ اور کارکردگی کی جانچ پڑتال کا نظام وضع کرنا حکومت کی ذمہ داری تھی
جو پوری نہیں ہورہی۔ انہوں نے کہا کہ سستے اور فوری انصاف کی فراہمی کے تقاضے پورے
نہ ہونے کے باعث سوسائٹی میں انتشار ہے مگر عوام کے ان بنیادی مسائل پرموجودہ اور ماضی
کی حکومتوں نے سنجیدگی سے توجہ نہیں دی۔


تبصرہ