بلدیاتی انتخاب میں پنجاب حکومت کی دھاندلی پر عوامی تحریک کا 14 نکاتی حقائق نامہ جاری
انتخابی مہم کے دوران وفاقی اور صوبائی حکومت نے 466 ارب روپے کے
منصوبوں کا اعلان کیا
’’فافن‘‘ نے حکومت کے بڑے جرائم پر پردہ ڈالا، دھاندلی کا آغاز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس
سے ہوا
آئین کے آرٹیکل 140-A اور آرٹیکل 32 کی دھجیاں اڑائی گئیں، پیسہ پانی کی طرح بہایا
گیا
پولیس افسران نے حکومتی امیدواروں کے لیے ووٹ مانگے، حقائق نامہ سی ڈبلیو سی میں پیش
کیا گیا
لاہور
(2 نومبر 2015) پاکستان عوامی تحریک نے بلدیاتی انتخابات میں حکومتی دھاندلی اور الیکشن
کمیشن کی نااہلی پر 14 نکات پر مشتمل حقائق نامہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوکل گورنمنٹ
بل کی منظوری سے لیکر پولنگ ڈے تک تین مراحل میں حکومت کی طرف سے دھاندلی کی گئی اورالیکشن
کمیشن کی بے بسی کے باعث ووٹرز اور امیدوار آزادانہ ماحول میں اپنا قومی سیاسی کردار
ادا نہ کر سکے۔ حکومت نے انتخابی مہم کے دوران 466 ارب روپے کے منصوبوں کے اعلانات
کیے اور پولیس افسران حکومتی امیدواروں کیلئے ووٹ مانگتے رہے۔ حقائق نامہ میں فافن
کی رپورٹ کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور کہا گیا کہ رپورٹ میں معمولی بے
ضابطگیوں کی نشاندہی کر کے حکومت کے بڑے جرائم پر پردہ ڈالا گیا۔ حقائق نامہ پاکستان
عوامی تحریک کے مرکزی سیکرٹری جنرل خرم نوازگنڈاپور نے عوامی تحریک کی سنٹرل ایگزیکٹو
کونسل کے اجلاس میں پیش کیا۔ اجلاس میں چیف کوآرڈینیٹر میجر(ر) محمد سعید، بشارت جسپال،
بریگیڈیئر (ر) محمد مشتاق، فیاض وڑائچ، سیکرٹری اطلاعات نوراللہ صدیقی اور سیکرٹری
کوآرڈینیشن ساجد بھٹی و دیگر نے شرکت کی۔ 14 نکاتی حقائق نامہ کے مطابق
- حکومتی دھاندلی کا آغاز خلاف آئین لوکل گورنمنٹ آرڈیننس پنجاب کے اجراء اور امتیازی ترامیم سے ہوا۔ آئین کے آرٹیکل 32کے تحت خواتین اقلیتوں کی حوصلہ افزائی کرنے کی بجائے انہیں براہ راست انتخابی عمل سے محروم کر دیا گیا جس کی وجہ سے ان کمزور طبقات کی بلدیاتی الیکشن میں دلچسپی کم ہو گئی، جس کا منفی اثر ٹرن آؤٹ پر بھی پڑا اور آئین کے آرٹیکل 140-A کے تحت بلدیاتی اداروں کے انتظامی اور معاشی اختیارات اتھارٹیوں کو سپرد کر کے عوامی نمائندوں کو بے اختیار کر دیا گیا۔
- پنجاب حکومت نے طویل مدت تک بلدیاتی انتخابات کو دانستہ التواء میں رکھ کر مسلسل بے یقینی پیدا کیے رکھی تاکہ اپوزیشن جماعتیں یکسوئی کے ساتھ حکمت عملی وضع نہ کر سکیں اور اس کا فائدہ حکمران جماعت نے اٹھایا۔
- بلدیاتی انتخابات سے قبل حکومت نے کھربوں روپے کے سیاسی منصوبوں کے اعلانات کر کے پری پول رگنگ کی۔
- ہر تھانے کی سطح پر ایس ایچ اوز کے ذریعے یونین کونسلوں کا سروے کروایا گیا، مضبوط خاندانوں کی فہرستیں مرتب کی گئیں اور ان خاندانوں کے ووٹ حاصل کرنے کیلئے پولیس اور ڈسٹرکٹ انتظامیہ کو استعمال کیا گیا، مخالفین پر مقدمات قائم کر کے انہیں ہراساں کیا گیا۔
- 341 ارب کا کسان پیکیج، 115ارب کا ’’پکیاں سڑکاں سوکھے پینڈے‘‘ پروگرام اور 10 ارب روپے کی ٹیکسی سکیم، اربوں روپے کے ڈویلپمنٹس کے پراجیکٹس اور بجلی پیدا کرنے کے جعلی افتتاح کے ذریعے رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی اور اس سارے ’’رگنگ پروگرام ‘‘کے حوالے سے الیکشن کمیشن نے خاموش تماشائی کا کردار ادا کیا۔
- پولنگ سے قبل اپوزیشن کے امیدواروں کو جو نشان الاٹ کیے گئے تھے وہ بیلٹ پیپر پر موجود نہیں تھے، حکومت کی اس دھاندلی کا سامنا ہمارے امیدواروں کو لودھراں اور بھکر میں کرنا پڑا، تحریری شکایت کے باوجود بھی ازالہ نہ کیا گیا۔
- ن لیگ کے مسلح گروہ پولنگ سٹیشنوں پر دندناتے رہے، اپوزیشن امیدواروں کو ہراساں کرتے رہے، ان پر تشدد کرتے رہے جس کی فوٹیج ٹی وی چینلز نے دکھائی مگر پولیس اور الیکشن کمیشن نے خاموشی اختیار کیے رکھی۔ ہمارے ایک امیدوار کو پتوکی میں ایم پی اے کی طرف سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
- ووٹوں کی گنتی سیکرٹ طریقے سے کرنے کی بجائے کھلے عام کی گئی اور حکومتی امیدواروں نے گنتی کے مرحلہ پر اپوزیشن امیدواروں کو بزور طاقت باہر نکال دیا۔ یہ شکایات اوکاڑہ، قصور اور لاہور کے مضافات میں عام تھیں۔
- جن حلقوں میں اپوزیشن کے امیدوار مضبوط تھے وہاں پولنگ کاآغاز تاخیر سے شروع کروایا گیا اور بہانے بہانے سے پولنگ رکوائی جاتی رہی، ووٹرز کی تذلیل کی جاتی رہی۔
- پولیس اور ڈسٹرکٹ انتظامیہ کے افسران حکمران جماعت کے امیدواروں کیلئے ووٹ مانگتے رہے، قلعہ دیدار سنگھ، حویلی لکھا میں آئی جی پنجاب کے بھائی کی بلامقابلہ کامیابی اس کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔
- حکومتی اور آزادامیدوار ووٹوں کی خریداری کیلئے پیسہ پانی کی طرح بہاتے رہے، مقررہ حد سے زیادہ اخراجات ہوئے، ووٹوں کی کھلے عام خرید و فروخت ہوئی اور شناختی کارڈ لیے جاتے رہے، شکایات کے باوجود الیکشن کمیشن اور پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔
- درجنوں پولنگ سٹیشن ایسے بھی تھے جہاں اپوزیشن کے امیدواروں کو ملنے والی فہرستوں اور پولنگ پر موجود فہرستوں میں فرق تھا۔
- عوامی تحریک کے متعدد امیدواروں کو الیکشن سے ایک روز قبل کاغذات نامزدگی میں ردوبدل کر کے انہیں انتخابی عمل سے باہر کر دیا گیا یہ شکایت سب سے زیادہ بھکر سے آئی۔
- الیکشن کمیشن اور پنجاب حکومت کا عوامی تحریک کے امیدواروں سے متعلق رویہ بطور خاص امتیازی اور تعصب پر مبنی تھا۔ عوامی تحریک کی طرف سے الیکشن کمیشن کو انتخابی قوانین کی خلاف ورزیوں پر 3خطوط لکھے گئے اور کسی ایک کا بھی جواب نہیں دیا گیا۔ یہاں تک کہ الیکشن کمیشن نے پولنگ ڈے سے قبل تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ جو میٹنگ کی اس میں بھی عوامی تحریک کو نہیں بلایا گیا اور حکومت نے ہمارے سینئر رہنماؤں اور کارکنوں پر بلاجواز مقدمات قائم کر کے انہیں ہراساں کیا اور انتقامی کارروائیوں کا یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔


تبصرہ