حکومت نے پولیس اور الیکشن کمیشن کے عملہ سے ملکر بدترین دھاندلی کی : عوامی تحریک
8 سال بعد بھی الیکشن کمیشن اور پنجاب حکومت شفاف الیکشن کروانے
میں ناکام رہی
لودھراں، اوکاڑہ، پتوکی میں ہمارے امیدواروں کے حامیوں سے شناختی کارڈ چھینے گئے
ہزاروں ووٹ ٹرانسفر ہوئے حقائق نامہ جاری کریں گے، عوامی تحریک کے رہنماؤں کی میڈیا
سے گفتگو
لاہور
(31 اکتوبر 2015) پاکستان عوامی تحریک کے سینئر رہنماؤں نے بلدیاتی انتخابات کے
نتائج کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ن لیگ نے پولیس اور الیکشن کمیشن کے عملہ سے
ملکر بدترین دھاندلی کی۔ 8سال کے طویل انتظار کے بعد بھی الیکشن کمیشن اورپنجاب
حکومت شفاف الیکشن کروانے میں بری طرح ناکام رہی۔ دھاندلی اور تشدد کے ناقابل تردید
ثبوتوں کے باوجود الیکشن کمیشن کی خاموشی نے انتخابی عمل کو مشکوک بنا دیا۔ پنجاب
کی ہر یونین کونسل میدان جنگ بنی رہی، ہزاروں کی تعداد میں ووٹ ٹرانسفر کر کے عوام
کو ووٹ کے استعمال کے آئینی حق سے محروم کیا گیا۔ بلدیاتی الیکشن میں ایک بار پھر
آراوز اور پولیس نے حکومتی دم چھلے کا کردار ادا کیا۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان
عوامی تحریک کے مرکزی سیکرٹری جنرل خرم نوازگنڈاپور، چیف کوآرڈینیٹر میجر(ر) محمد
سعید اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات نوراللہ صدیقی نے عوامی تحریک کے مرکزی سیکرٹریٹ
میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ رہنماؤں نے قصور واں آدھن یوسی 96
وارڈ 5 میں ایم پی اے آصف نکئی کی طرف سے عوامی تحریک کے کارکنوں پر تشدد کی شدید
الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ اس غنڈہ گردی پر ایم پی اے کے خلاف مقدمہ درج کروائیں
گے پاکستان کسی کے باپ کی جاگیر نہیں کہ جہاں کوئی غریب آدمی الیکشن نہیں لڑ سکتا۔
رہنماؤں نے کہا کہ حکمران جماعت کی بلدیاتی دھاندلیوں پر وائٹ پیپر بھی جاری کریں
گے اور حکمرانوں کو بے نقاب کریں گے۔
خرم نوازگنڈاپور نے کہا کہ حکمرانوں نے دھاندلی کے اگلے پچھلے ریکارڈ توڑ دئیے۔ لودھراں میں بیلٹ پیپرز پر ہمارے امیدواروں کے غلط انتخابی نشان پرنٹ کیے گئے، فیصل آباد میں یوسی 158 میں ہمارے امیدوار کا نام ووٹر فہرست سے نکال دیا گیا۔ اوکاڑہ میں ہمارے کارکنوں پر تشدد ہوا۔ بھکر میں الیکشن سے ایک روز قبل آراو نے کاغذات میں رودوبدل کر کے ہمارے مضبوط امیدوار کو انتخابی عمل سے باہر کر دیا۔ منہاج القرآن کے سینئر رہنما جی ایم ملک جو 35 سال سے ٹاؤن شپ سیکٹر اے ٹو کے رہائشی ہیں ان کا ووٹ غوثیہ کالونی ٹرانسفر کر دیا گیا۔ پہلی دفعہ ان کی پوری فیملی ووٹ کے استعمال کے آئینی حق سے محروم رہی۔ اس قسم کی سینکڑوں شکایات دیگر اضلاع سے موصول ہورہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن امیدواروں کو فراہم کی جانی والی فہرستوں اور پولنگ اسٹیشن پر موجود فہرستوں میں فرق تھا۔ اپوزیشن کے امیدواروں کے ساتھ کام کرنے والے نجی ٹرانسپورٹرز کو مقامی پولیس کے ذریعے ہراساں کیا گیا۔
میجر(ر) محمد سعید نے کہا کہ ڈاکٹر طاہرالقادری کے جانثار ن لیگ کی دھاندلیوں سے بددل نہیں ہونگے۔ ظالم نظام اور قاتل حکمرانوں کے خلاف ہماری جدوجہد اب پہلے سے زیادہ تیز ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے الیکشن اور ایسی جمہوریت سے تبدیلی نہیں آئے گی۔ پولیس اور الیکشن کمیشن ن لیگ کی پشت پر نہ ہوتے تو حکمران جماعت کے 75 فیصد امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہو جاتیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے بہتر تھا وزیراعلیٰ ہر تھانے کے ایس ایچ او کو یو سیزکے چیئرمین کا ٹکٹ جاری کر دیتے، ماڈل ٹاؤن پولیس نے ایک بار حکمران جماعت کے امیدواروں کو جتوانے کیلئے شرمناک کردار ادا کیا۔
مرکزی سیکرٹری اطلاعات نوراللہ صدیقی نے خیر پو ر سندھ میں خونی تصادم کے نتیجے میں اموات پر افسوس کا اظہار کیا اور کہاکہ اب وقت آگیا ہے کہ دھاندلی زدہ انتخابی نظام کو ٹھیک کیا جائے اور پولیس سمیت قومی اداروں کو سیاست سے پاک کیا جائے جب تک عوام کے منتخب کیے گئے نمائندے عوامی آئینی اداروں تک نہیں پہنچیں گے بہتری اور تبدیلی نہیں آئے گی اورعوام حقیقی جمہوریت کے ثمرات سے محروم رہیں گے۔


تبصرہ