سانحہ ماڈل ٹاؤن سے متعلق غیر ملکی جریدہ میں شائع ہونے والی خبر کا چیف جسٹس نوٹس لیں
خبر کے مطابق شہدائے ماڈل ٹاؤن کی ایف آئی آر کو پولیس نے داخل دفتر کر دیا، ترجمان عوامی تحریک
پاکستان
عوامی تحریک کے ترجمان نے شہدائے ماڈل ٹاؤن کی طرف سے درج کروائی گئی ایف آئی آر کو
داخل دفتر کئے جانے سے متعلق پنجاب پولیس ذرا ئع کے حوالے سے غیر ملکی جریدے میں
شائع ہونے والی خبر سے متعلق گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس خبر سے
شہداء کے لواحقین اور پاکستان عوامی تحریک کے دنیا بھر میں موجودلاکھوں کارکنان میں
غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ہماری چیف جسٹس پاکستان سے استدعا ہے کہ
وہ غیر ملکی اخبار میں شائع ہونے والی خبر کے تناظر میں اس کا نوٹس لیں، کیونکہ
سانحہ ماڈل ٹاؤن حکومتی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی بد ترین پامالی کا کیس ہے۔
ترجمان کے مطابق مذکورہ غیر ملکی اخبار کی خبر چیف جسٹس آف پاکستان کو ارسال کر دی
گئی ہے، ترجمان نے کہا کہ غیر ملکی اخبار نے سانحہ ماڈل ٹاؤن میں بے گناہ انسانوں
کے قاتل اور ماڈل ٹاؤن کے اندوہناک سانحے کی ایف آئی آر میں نامزد ملزموں جن میں
وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب شامل ہیں کو پولیس کی نام نہاد جے آئی ٹی رپورٹ کی
روشنی میں بے گناہ قرار دیا گیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ 17 جون 2014 کے دن وزیراعظم،
وزیر اعلیٰ پنجاب کی مشاورت اور ہدایت پر سانحہ ماڈل ٹاؤن میں عوامی تحریک کے
کارکنوں کو پولیس کے ذریعے خون میں نہلایا گیا جس کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔
دنیا کی کوئی طاقت ان کھلے حقائق کو تبدیل نہیں کرسکتی۔



تبصرہ