حکمران جماعت کالا باغ ڈیم کے نام پر منافقت بند کر دے، عوامی تحریک
کالا باغ ڈیم اہم تھا تو وزیر اعظم نے پارٹی منشور سے کیوں
نکالا؟ خرم نواز گنڈا پور
قصور سکینڈل کو دو فریقوں کا جھگڑا کہنے والے وزیر قانون کو بر طرف کیا جائے
ملتان، مظفر گڑھ میں خود سوزیاں حکومت کی گڈ گورننس کے منہ پر طمانچہ ہے

لاہور (14 اکتوبر 2015) پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور نے کہا کہ ن لیگ کالا باغ ڈیم کے نام پر منافقت بند کر دے، کالا باغ ڈیم کا منصوبہ اہم تھاتو پھر 2013 کے الیکشن میں وزیر اعظم نے اسے پارٹی منشور سے کیوں نکالا؟ وہ گزشتہ روز بلدیاتی انتخابات کے جائزہ اجلاس میں کارکنوں اور رہنماؤں سے خطاب کر رہے تھے، اس موقع پر جی ایم ملک، ساجد بھٹی، نور اللہ صدیقی، جواد حامد، شہزاد رسول و دیگر موجود تھے۔ خرم نواز گنڈا پور نے کہا کہ 2012ء میں پنجاب اسمبلی نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کیلئے ایک متفقہ قرارداد پاس کی۔ ن لیگ کی صوبائی حکومت کی پاس کردہ اس قرار داد پر ن لیگ کی وفاقی حکومت نے اڑھائی سال گزر جانے کے بعد بھی توجہ نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ جن آبی ذخائر کی تعمیر پر اتفاق رائے ہو چکا ہے، حکومت انکی تعمیر پر توجہ کیوں نہیں دے رہی ؟۔ خرم نواز گنڈا پور نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ قصور میں پنجاب حکومت کی بیڈ گورننس اور پولیس کا مجرمانہ کردار ایک بار پھر ثابت ہو گیا، تحقیقاتی ٹیم کی طرف سے قصور میں 239بچوں سے زیادتی کی تصدیق کے بعد اس سکینڈل کو دو فریقوں کا جھگڑا کہنے والے وزیر قانون رانا ثناء اللہ کو برطرف کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ ماڈل ٹاؤن کے قاتل حکمران اور قاتل پولیس کے ظلم سے تنگ آئے بے بس عوام اپنے ہاتھوں سے اپنی جانیں لینے پر مجبور ہیں۔ اجلاس میں ایک قراردد کے ذریعے ملتان اور مظفر گڑھ میں پولیس اور پٹواریوں کے ستائے ہوئے نوجوان اور خاتون کی خود سوزی پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ پنجاب حکومت کی نام نہاد گڈ گورننس کے منہ پر طمانچہ ہے، ہر انسانی المیہ پر وزیر اعلیٰ پنجاب معطلیوں کے ڈرامے رچا کر اپنی نا اہلی کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس صوبہ کے وزیر اعلیٰ کے کہنے پر پولیس دن دہاڑے درجنوں افراد پر گولیاں برسا کر انہیں خون میں نہلا سکتی ہے اس پولیس کیلئے قانون شکنی اور ناانصافی کوئی بڑا جرم نہیں۔ حکمرانوں کی سر پرستی کے بغیر پولیس شہریوں پر ظلم نہیں کر سکتی۔


تبصرہ