12 اکتوبر کا واقعہ قومی اداروں سے تصادم کی پالیسی کا نتیجہ تھا : عوامی تحریک
افسوس حکومت اسی ڈگر پر ہے، مشاہد اللہ بتائیں کس کی نوکری پرہیں
؟مرکزی سیکرٹری اطلاعات
پارلیمنٹ کو آج بھی قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف زہر افشانی کیلئے استعمال کیا جارہا
ہے
سانحہ ماڈل ٹاؤن کے بعد حکومت کے قائم رہنے کا کوئی قانونی، اخلاقی جواز نہیں بچتا
لاہور
(12 اکتوبر 2015) پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات نوراللہ صدیقی نے 12
اکتوبر 1999 ء کے تناظر میں مرکزی سیکرٹریٹ میں اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا
کہ 12 اکتوبر کا واقعہ قومی اداروں سے تصادم کی پالیسی کا نتیجہ تھا، افسوس وہ آج بھی
جاری ہے۔ پارلیمنٹ کو آج بھی قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف زہر افشانی کیلئے استعمال
کیا جارہا ہے۔ موجودہ حکمران جب بھی رخصت ہوئے مٹھائیاں تقسیم ہونگی۔ قومی سلامتی کے
اداروں پر بار بار الزام تراشی کرنے والے سینیٹر مشاہد اللہ اپنی پوزیشن واضح کریں
کہ وہ کس کی نوکری پر ہیں؟۔ حکمران اپنے اقتدار کو تحفظ دینے کیلئے اگر آزادی اظہار
کا گلہ دبائیں گے، بنیادی آئینی حقوق کو کچلیں گے اور سانحہ ماڈل ٹاؤن جیسی خون ریزی
میں پیش پیش ہونگے تو پھر قدرت کی لاٹھی بھی حرکت میں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ افواج
پاکستان کے سپہ سالار کو اس کے اپنے ہی ملک کے اندر اترنے سے روکنااور دشمن ملک کی
سرزمین کی طرف طیارے کا رخ موڑنے پر مجبور کرنا کونسی حب الوطنی، جمہوریت اور سیاست
ہے؟۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے بعد حکومت کے قائم رہنے کا کوئی قانونی اور
اخلاقی جواز نہیں بچتا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی یہی حکمران اپنے سیاسی مخالفین
سے زندہ رہنے کا حق چھینتے رہے اور آج بھی وہ اسی ڈگر پر ہیں۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں
14 بے گناہوں کی شہادتیں، سانحہ ڈی چوک اسلام آباد، سانحہ فیصل آباد، حلقہ این اے 122
میں سیاسی کارکنوں کا قتل اس کی زندہ مثالیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 12 اکتوبر 1999 ء
سے قبل اپوزیشن کے خلاف انتہائی توہین آمیز اور انتقامی رویہ رواں رکھا گیا۔ احتساب
کے نام پر سیاسی کارکنوں پر عرصہ حیات تنگ کیاگیا۔ اعلان لاہور کی آڑ میں کشمیر کا
سودا کیا گیا۔ پاکستان کا دیوالیہ نکال دیا گیا تھا۔ فوج سمیت پولیس، عدلیہ اور دیگر
اداروں کو سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے ساتھ کمزور کیا گیایہی وہ حقائق تھے جس کی وجہ
سے 12 اکتوبر 1999 ء کے واقعہ پر پوری قوم نے مٹھائیاں بانٹیں اور یہ مٹھائیاں موجودہ
حکمرانوں کی رخصتی پر اب بھی بٹیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان عوامی تحریک حقیقی جمہوری
اقدار پر یقین رکھتی ہے اور سمجھتی ہے کہ فوج کو سیاست میں نہیں آنے چاہیے مگر جب سیاسی
آمریت اپنی حدوں کو چھونے لگتی ہے تو پھر مجبوراً عوام فوج کی طرف دیکھتے ہیں۔


تبصرہ