نیب کی رپورٹ کے خلاف ’’محمود و ایاز‘‘ ایک صف میں کھڑے ہو گئے: ڈاکٹر رحیق عباسی
کیا پنجاب کے ہر شہر اور گاؤں میں جاتی عمرہ جیسی جدید سڑکوں کا
جال ہے؟
جے آئی ٹی رپورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کا ذمہ دار پولیس کو ٹھہرایا، مرکزی صدر پی اے
ٹی
لاہور
(9 جولائی 2015) پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی صدر ڈاکٹر رحیق عباسی نے کہا کہ نیب
کی رپورٹ نے نام نہاد قومی لیڈر شپ کے چہروں سے نقاب الٹ دیا۔ نیب کی رپورٹ کے خلاف
’’محمود و ایاز‘‘ ایک صف میں کھڑے ہو گئے ہیں۔ ثابت ہو گیا ملک میں احتساب کا غیر
جانبدار ادارہ ہے اور نہ کوئی مؤثر قانون۔ انہوں نے رپورٹ کے حوالے سے وزیراعلیٰ کی
چیخ و پکار پر کہا کہ پنجاب کے خادم اعلیٰ بتائیں کیا پنجاب کے ہر گاؤں اور ہرشہر
میں جاتی عمرہ جیسی جدید سڑکوں کا جال ہے؟ انہوں نے کہا کہ جو بھی اقتدار میں آتا
ہے اپنے اختیارات اور وسائل کا ناجائز استعمال کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج پنجاب کے
مختلف اضلاع میں ترقی کی رفتار اور شرح مختلف ہے۔ لاہور میں ہرشہری پر ترقیاتی فنڈز
کا 40 ہزار فی کس خرچ ہوتا ہے لیکن راجن پور، لیہ، مظفر گڑھ میں فی کس خرچ کی شرح 2
ہزار روپے سے بھی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی خزانے کا من پسند استعمال بھی
بددیانتی ہے اس پر مقدمات بننے ہی نہیں چلنے بھی چاہئیں۔
دریں اثناء ڈاکٹر رحیق عباسی نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مقدمہ کے حوالے سے فرد جرم کی خبروں پر کہا کہ پولیس کی مدعیت میں درج کروائے گئے جھوٹے مقدمات کو عدالتیں مسترد کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ اور حکومتی جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں سانحہ کا ذمہ دار پولیس کو ٹھہرایا ان رپورٹس کے بعد ہمارے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر جھوٹی ثابت ہو چکی ہے۔ ’’جوڈیشل مائنڈ اپلائی‘‘ ہونے کے بعد ایگزیکٹو کی انکوائری بدنیتی پر مبنی اور عدلیہ کی غیر جانبداری و سپرمیسی کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے خلاف کارروائی کی بجائے جھوٹی ایف آئی آردرج کرنے اور کروانے والوں کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہیے۔


تبصرہ