راولپنڈی میں پولیس گردی کا نشانہ بننے والے بھائیوں کا مقدمہ فوجی عدالت میں بھیجا جائے: سلطان نعیم کیانی

راولپنڈی (9 جون 2015ء) پاکستان عوامی تحریک ضلع راولپنڈی کے صدر سلطان نعیم کیانی نے کہا ہے کہ شہر کے وسط میں دن دھاڑے پولیس کے ہاتھوں دو نوجوان بھائیوں کے قتل نے شہریوں کو شدید عدم تحفظ میں مبتلا کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہر میں موجود ہونے کے باوجود مقتولین کی نماز جنازہ میں شریک نہ ہوئے۔ پولیس اپنے پیٹی بھائیوں کو بچانے کے لئے سرگرم ہو چکی ہے، نماز جنازہ سے قبل ایکسپریس وے پر احتجاج کرنے پر مقتولین کے ورثاء پر مقدمات قائم کر دیئے گئے ہیں۔ پاکستان عوامی تحریک کامطالبہ ہے کہ اس مقدمے کو فوجی عدالت میں بھیجا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز اہل خانہ سے اظہار تعزیت اور دعاء کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پاکستان عوامی تحریک شمالی پنجاب کے صدر بریگیڈیئر (ر) مشتاق احمد، غلام علی، امجد عباسی اور میڈیا سیکرٹری سہیل عباسی بھی موجود تھے۔ سلطان نعیم کیانی نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں سرکاری سرپرستی میں خون کی ہولی کھیلنے والے پولیس افسران کو نشان عبرت بنا نے کی بجائے ترقیوں سے نوازا گیا۔ موجودہ حکمرانوں نے اپنے مخالفین کو کچلنے کیلئے ہر جگہ تھانوں میں گلوبٹ بھرتی کر رکھے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس گردی کے بڑھتے واقعات معمول بنتے جارہے ہیں جبکہ تدارک کیلئے حکومت کی طرف سے کوئی اقدامات دکھائی نہیں دے رہے۔ انہوں نے اہل خانہ کو یقین دلایا کہ ان پر ہونے والے ظلم کے خلاف ہر پلیٹ فارم پر آواز اٹھائیں گے کیونکہ پاکستان عوامی تحریک خود اپنے چودہ کارکنوں کے سفاکانہ قتل پر انصاف نہ ملنے کے کرب سے گزر رہی ہے۔


تبصرہ