ڈیرہ غازیخان: پاکستان عوامی تحریک کی سانحہ ماڈل ٹاؤن کی جعلی JIT رپورٹ کے خلاف احتجاجی ریلی

ڈیرہ غازیخان (7۔جون 2015ء) 17جون 2014کو ماڈل ٹاؤن سے 14 معصوموں کے جنازے اٹھے، ایک سال بعد نام نہاد جے آئی ٹی کی رپورٹ آنے سے انصاف کا جنازہ اٹھ گیا اور اب انشااللہ بہت جلد اس آمرانہ و ظالمانہ نظام کا جنازہ اٹھے گا۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان عوامی تحریک جنوبی پنجاب کے سیکرٹری جنرل سیف اللہ خان سدوزئی نے حکومتی جعلی جے آئی ٹی کی رپورٹ کے خلاف ریلی میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک دہشت گرد اور قاتل کو وزیرِ قانون بنا کر انسانیت اور قانون کا مذاق اڑایا گیا۔ یکطرفہ اور جعلی جے آئی ٹی کی رپورٹ مضحکہ خیز اور انصاف کا خون ہے، جسے ہم مسترد کرتے ہیں۔ شہباز شریف، رانا ثناء اللہ، آئی جی پنجاب اور توقیرشاہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ دار ہیں۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ملوث تمام ملزمان کو اہم عہدوں پر فائز کر دیا گیا، ڈاکٹر توقیر شاہ کو ڈبلیوٹی او کا سفیر بنوادیا گیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کہتے ہیں کہ مجھے واقع کا علم صبح 9 بجے ہوا، جبکہ ساری شہادتیں 11 بجے کے بعد ہوئیں۔ جے آئی ٹی نے یہ کیسے لکھ دیا کہ وزیر اعلیٰ کا واقعہ سے تعلق ثابت نہیں ہوا؟ مسلم لیگ۔ن کی حکومت سے ڈیل کی خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معصوموں کی خون پر ڈیل کرنے یا ایسی پیش کش پر غور کرنے اور ڈیل کے جھوٹے الزام لگانے والوں پر اللہ کی لعنت ہو۔ حکمران ہمارے غریب کارکنوں کے لواحقین کو کروڑوں اربوں کی آفر دینے کے باوجود خرید نہ سکے۔
پاکستان عوامی تحریک ڈیرہ غازی خان کے ضلعی صدر ریاض احمد خان علیانی نے احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں کے مسلسل جاری مظالم، جھوٹے مقدمات، سزائیں اور انتقامی کاروائیاں ہمارے حوصلوں کو ہرگز کمزور نہ کر سکیں۔ شہدائے انقلاب نہ صرف ہمارے بلکہ پوری قوم کے محسن ہیں۔ 17 جون 2014 کو حکومتی ایما پر ماڈل ٹاؤن میں ریاستی دہشت گردی، قتل وغارت گری اور بربریت و تشدد کی بد ترین مثال قائم کی گئی۔ نہتے اور پرامن شہریوں پر براہ راست گولیاں چلائی گئیں۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار نہتی خواتین کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ اسلامی، آئینی اور جمہوری اقدار کی دھجیاں اُڑائی گئیں۔ ان مناظر کو تمام میڈیا چینلز کے ذریعے پوری پاکستانی قوم اور اقوام عالم نے دیکھا، اس کے بعد جے آئی ٹی کونسے ثبوت چاہتی ہے؟ ملک کے طاقتور ادارے اور آزاد عدلیہ ایک سال گزرنے کے باوجود چپ کا روزہ رکھے ہوئے ہیں۔ انصاف کا قتل عام ہو رہا ہے۔ ہم حکمرانوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ پاکستان عوامی تحریک نے شہدائے انقلاب کی قربانیوں کو فراموش کیا نہ کبھی کریں گے۔ شہداء کے خون پر کوئی سودا ہوا اور نہ ہو سکتا ہے، انصاف کے حصول تک ہماری پر امن جدوجہد جاری رہے گی۔ ہمارا مطالبہ قصاص ہے اور ہم قاتلو ں کی پھانسی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ حکمران طاقت کے زور سے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شواہد کو جتنا بھی مسخ کر لیں مگر ایک دن انہیں اس ظلم کا حساب دینا ہو گا۔
احتجاجی ریلی مشرف فلٹریشن پلانٹ سے شہر کی مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی ٹریفک چوک پریس کلب کے سامنے اختتام پزیر ہوئی۔ ریلی میں ڈاکٹر بلوچ، اختر ملانہ، حاجی عمر، عامر کریم، ملک ربنواز، سعید مصطفوی، خواجہ جاوید اور عبدالخالق کے علاوہ کارکنان اور عوام کہ بڑی تعداد نے شرکت کی۔






تبصرہ