جے آئی ٹی کی رپورٹ اور رانا ثناءاللہ کے خلاف عوامی تحریک کے احتجاجی مظاہرے
وہاڑی میں چوہدری فیاض وڑائچ، رحیم یار خان میں طاہر فریدی اور
لیہ میں چوہدری قمر عباس نے مظاہروں کی قیادت کی
نام نہاد رپورٹ سے قاتلوں کے مکروہ چہرے پوری طرح قوم کے سامنے عیاں ہو گئے۔ فیاض
وڑائچ
لاہور
(31مئی 2015 ) پاکستان عوامی تحریک کے زیراہتمام وہاڑی، رحیم یار خان اور لیہ میں
پریس کلب کے سامنے ماڈل ٹاؤن سانحہ پر بننے والی جے آئی ٹی کی رپورٹ اور رانا
ثناءاللہ کو دوبارہ وزارت ملنے کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ شرکاء نے’’ قاتلوں کی
جے آئی ٹی نامنظور‘‘ اور رانا ثناءاللہ کے دوبارہ کابینہ میں شامل ہونے کے خلاف
شدید نعرے بازی کی۔ وہاڑی میں احتجاجی مظاہرے کی قیادت چوہدری فیاض وڑائچ جبکہ رحیم
یار خان میں محمد طاہر فریدی اور لیہ میں چوہدری قمر عباس نے کی۔
وہاڑی میں احتجاجی شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری فیاض وڑائچ نے کہا کہ 17 جون 2014ء کو ماڈل ٹاؤن میں 14 معصوم لوگوں کو شہید کیا گیا اور 100 کے قریب لوگوں کو گولیوں سے بھون دیا گیا۔ ایک سال گزرنے کے بعد نام نہاد رپورٹ آنے سے قاتل حکمرانوں کے مکروہ چہرے پوری طرح قوم کے سامنے عیاں ہو گئے ہیں، ان شااللہ جلد اس ظلم پر مبنی نظام کاخاتمہ ہو گا۔ قاتل حکمرانوں نے سانحہ ڈسکہ بپا کر کے سانحہ ماڈل ٹاؤن کو دوہرا دیا، اگر انکے ہاتھ نہ روکے گئے تو یہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں، جب تک یہ قاتل بر سر اقتدار رہیں گے انصاف نہیں ملے گا۔
رحیم یار خان میں محمد طاہر فریدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ یکطرفہ اور جھوٹ پر مبنی ہے، دولت مند حکمران انصاف کے راستے کی دیوار بن گئے ہیں اور شہریوں کے بنیادی حقوق سلب کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے 14 معصوم لوگوں کے خون میں ملوث رانا ثناءاللہ کو دوبارہ کابینہ میں شامل کروا کر جمہوری اقدار کے منہ پر طمانچہ مارا ہے۔
لیہ میں چوہدری قمر عباس نے احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہرالقادری نے ظالمانہ نظام کے خلاف انقلابی جدوجہد کا اعلان کیا تو خود سر اور اقتدار کے نشے میں مست حکمرانوں نے ماڈل ٹاؤن میں خون کی ندیاں بہا دیں، جب تک شہداء کے لواحقین کی تائید سے غیر جانبدار، ایماندار اور فرض شناس افسران پر مشتمل نئی جے آئی ٹی نہیں بنائی جائے گی انصاف کے تقاضے پورے نہ ہوں گے۔


تبصرہ