حکمرانوں کا جعلی مینڈیٹ بہت جلد سانحہ ماڈل ٹاؤن کی بھینٹ چڑھنے والا ہے: مشتاق للہ
پنجاب میں جرائم کی روک تھام کے لئے حکومت کا کوئی پلان اور منصوبہ
بندی نظر نہیں آرہی
لاہور میں 6 بچوں کی اموات کے ذمہ داران کو سزا فقط قراردادوں سے
نہیں بلکہ عملی اقدامات سے دی جائے
ہسپتالوں کی حالت کو بہتر بنانے کے لئے بھی حکومت سنجیدہ نہیں ہے
اسلام
آباد (20مئی 2015ء) پاکستان عوامی تحریک شمالی پنجاب کے صدر بریگیڈیر (ریٹائرڈ) مشتاق
للہ نے کہا ہے کہ پنجاب میں جرائم کی روک تھام کے لئے حکومت کا کوئی پلان اور منصوبہ
بندی نظر نہیں آرہی، حکمران فقط ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر عمل پیرا ہیں، حکمرانوں کا جعلی
مینڈیٹ بہت جلد سانحہ ماڈل ٹاؤن کی بھینٹ چڑھنے والا ہے، انہوں نے سانحہ ماڈل ٹاؤن
کا کیس فوجی عدالتوں میں چلانے کا مطالبہ کیا۔ دہشت گردی کے خلاف آپریشن کی مکمل تائیدو
حمایت کرتے ہیں۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز اسلام آباد میڈیا سیل میں صحافیوں
سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر مصطفی خان، غلام علی خان، منظور ملک، شمریز اعوان،
احسن قریشی، ملک عامر، ایاز صابر بھی موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ لاہور میں 6 بچوں کی اموات کے ذمہ داران کو سزا فقط قراردادوں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے دی جا ئے۔ مشتاق للہ نے کہا کہ پنجاب کے اداروں میں سٹاف کی کمی کو بھی پورا کیاجائے تاکہ عوام کو اپنے مسائل کے حل کے لئے مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اساتذہ اور ڈاکٹرز کے مسائل بھی حل طلب ہیں جن پر حکمرانوں کی کوئی توجہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں کی حالت کو بہتر بنانے کے لئے بھی حکومت سنجیدہ نہیں ہے، دور دراز سے آئے ہوئے مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ہسپتالوں میں دوائیاں بھی ناپید ہیں، پنجاب اور وفاقی حکومت میگا منصوبوں پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں، جن سے کرپشن کر کے کمیشن بنائی جا ئے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی تحریک کا دس نکاتی ایجنڈا غریب عوام کے مسائل کا حل ہے، جب تک موجودہ نظام اور حکمران ہیں عوام کو ریلیف نہیں مل سکتا، کیونکہ عوامی مسائل کا حل اور ریلیف دینا حکمرانوں کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہے۔


تبصرہ