پاکستان عوامی تحریک کی طرف سے آئی جی پنجاب کو خط
کارکنوں پر قائم جھوٹے مقدمات کی شفاف تفتیش کیلئے جے آئی ٹی
بنائی جائے
12 سو سے زائد کارکنوں پر لاہور، سرگودھا، بھکر، بہاولپور، اوکاڑہ میں 42 جھوٹے
مقدمات درج کئے گئے
پوری دنیا جانتی ہے پرامن لانگ مارچ کو سبوتاژ کرنے کیلئے کارکنوں پر سیاسی مقدمات
بنائے گئے۔ خرم نواز گنڈا پور
لاہور
(20 مئی 2015) پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور نے آئی
جی پنجاب کو خط لکھا ہے کہ 1200 سے زائد کارکنوں پر قائم 42 مقدمات کی شفاف تحقیقات
کیلئے غیر جانبدار جے آئی ٹی تشکیل دی جائے، ہمارے بے گناہ کارکنوں کو آج بھی پولیس
کی معیت میں درج کئے گئے جھوٹے مقدمات کے تحت ہراساں کیا جارہا ہے۔ خرم نواز گنڈا
پور نے آئی جی پنجاب کو لکھے جانے والے خط میں تمام مقدمات کی تفصیل سے تحریری طور
پر آگاہ کیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ یہ تمام مقدمات 23 جون 2014 سے لے کر ستمبر 2014
کے درمیان درج کئے گئے، انہوں نے خط میں مقدمات کی تفصیل فراہم کرتے ہوئے کہا کہ یہ
مقدمات راولپنڈی، گھکھڑ، کامونکی، گوجرہ، بھکر، سرگودھا، واہ بھچراں میانوالی،
خوشاب، اوکاڑہ، دیپالپور، چنیوٹ، خانیوال، بہاولپور، شور کوٹ، بھیرہ انٹرچینج کے
مختلف تھانوں میں درج کئے گئے۔
انہوں نے خط میں مقدمات کی تفصیل فراہم کرتے ہوئے کہا کہ لاہور میں 11، راولپنڈی میں 1، بھیرہ انٹرچینج پر 1، گوجرانوالا میں 4، بھکر میں 6، میانوالی میں 2، گوجرہ میں 1، خوشاب میں 2، دیپالپور میں 2، چنیوٹ میں 2، خانیوال میں 4، اوکاڑہ میں 1، بہاولپور میں 2، حافظ آباد میں 1، شورکوٹ میں 1، سرگودھا میں 1مقدمہ درج کیا گیا۔
خرم نواز گنڈا پور نے آئی جی پنجاب کے نام لکھے جانے والے خط میں کہا کہ 90 فیصد سے زائد مقدمات میں پولیس نے گھروں میں سوئے ہوئے کارکنوں پر ریڈ کر کے انہیں گرفتار کیا، سامان لوٹا، خواتین سے بدتمیزی کی اور الٹا جھوٹے مقدمات درج کروالئے۔ بقیہ مقدمات پرامن کارکنوں کو راستوں میں گرفتار کر کے درج کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھر کے عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ تمام مقدمات پنجاب حکومت کی ہدایت پر کئے گئے ہیں، اس کا مقصد پر امن لانگ مارچ کو سبوتاژ کرنا تھا اور بعد ازاں ہم نے اپنا دھرنا اکتوبر 2014 میں ختم کر کے یہ ثابت بھی کیا کہ ہم پر امن لوگ ہیں توقع کی جا رہی تھی کہ دھرنے کے پر امن اختتام کے بعد یہ تمام جھوٹے مقدمات ختم کر دیئے جائیں گے مگر ہمیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پنجاب حکومت اور پنجاب پولیس نے انتقامی رویے کی بدترین مثال قائم کی ہے،انہوں نے آئی جی پنجاب سے کہا کہ ان تمام مقدمات کے جائزہ کیلئے غیر جانبدارجے آئی ٹی تشکیل دی جائے۔


تبصرہ