جو نظام سانحہ ماڈل ٹاؤن کے معلوم قاتلوں کو کٹہرے میں نہیں لا سکا، وہ سانحہ صفورہ کے نامعلوم قاتلوں سے کیا بدلہ لے گا؟ پاکستان عوامی تحریک

کراچی: پاکستان عوامی تحریک نے سانحہ صفورہ، سانحہ ماڈل ٹاؤن، سانحہ پشاور، بلوچستان میں مزدوروں اور آبادکاروں کا قتل، مساجد اور امام بارگاہوں پر حملوں، اساتذہ، ڈاکٹرز اور پولیس افسران کے قتل عام، کراچی میں پانی کی قلت کے خلاف 17مئی کو ملک گیر یوم احتجاج منایا۔ اس سلسلے میں کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں پاکستان عوامی تحریک کے قائدین و کارکنان اور سول سوسائٹی نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے صدر پاکستان عوامی تحریک کراچی سید لیاقت حسین کاظمی نے کہا میں وزیراعظم پاکستان اور وزیرداخلہ سے سوال کرتا ہوں سانحہ صفورہ میں نامعلوم قاتل ہیں جو تمہیں مل نہیں رہے سانحہ ماڈل ٹاؤن میں تو معلوم قاتل ہیں وہ اب تک گرفتار کیوں نہیں ہوئے؟ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے قاتلوں کو گرفتار کرنے، لواحقین کو انصاف دلانے کے بجائے حکومت نے انہیں اعلیٰ عہدوں سے نواز دیا ہے۔ حکومت کی بزدلانہ، منافقانہ، ناکام پالیسیوں کی وجہ سے ملک و ملت دہشت گردی کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا سانحہ صفورہ ناقص کارکردگی کی وجہ سے پیش آیا۔ جس ملک میں پولیس کی بھرتی سیاسی اور سفارشی ہوگی، پولیس کو سیاسی مقاصد اور مخالفین کو کچلنے کیلئے استعمال کیا جائے گا وہاں دہشت گردی کی ایسی بدترین کاروائیاں ہوتی رہیں گی۔
پاکستان عوامی تحریک کراچی کے جنرل سیکرٹری قیصر اقبال قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے مگر حکمران سیر سپاٹوں میں مصروف ہیں اگر ملک ایسے ہی نااہل حکمرانوں کے ہاتھوں میں رہا تو رہی سہی کسر بھی پوری ہو جائے گی۔ دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کا کردار اور قربانیاں ناقابل فراموش ہیں پوری قوم نہ صرف انکی ہمت، جرات اور قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے بلکہ پوری قوم ہر قدم پر ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
پاکستان عوامی تحریک کراچی کے رہنماء سید ظفر اقبال نے کہا پاکستان عوامی تحریک عنقریب قوم کو ان غلام، کرپٹ اور نا اہل حکمرانوں سے چھٹکارا دلا کر قوم کے غصب شدہ حقوق بازیاب کرائے گی۔ الیاس مغل کا کہنا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کو ایک سال مکمل ہونے کو ہے مگر متاثرین اب تک انصاف کے منتظر ہیں۔ حکمرانوں کی اپنی بنائی ہوئی JIT کی پہلی رپورٹ ابھی تک شائع نہیں ہونے دی گئی۔ موجودہ JIT جو کہ حکمرانوں نے اپنے تحفظ کیلئے بنائی ہے جسے متاثرہ فریق نے مسترد کیا ہے وہ بھی اب تک مجرموں کا تعین نہیں کر سکی۔
پاکستان عوامی تحریک یوتھ ونگ کے صدر راؤ طیب نے کہا ہمارا مطالبہ ہے وزیر اعلیٰ پنجاب فی الفور مستعفی ہوں اور خود کو سانحہ ماڈل ٹاؤن میں قانون کے حوالے کریں، JIT کی پہلی رپورٹ فی الفور شائع کی جائے، سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ملوث جن مجرموں کو اعلیٰ عہدوں سے نوازا گیا ہے انہیں برطرف کیا جائے، رانا ثناء اللہ، سعد رفیق، عابد شیر علی، خواجہ آصف، پرویز رشید سمیت سانحہ میں ملوث اور FIR میں نامزد تمام افراد کو گرفتار کیا جائے۔ سانحہ ماڈل ٹاؤ ن کا کیس فوجی عدالے میں بھیجا جائے۔ ہم آرمی چیف سے اپیل کرتے ہیں سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ہمیں انصاف دلانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
پاکستان عوامی تحریک ویمن ونگ کی صدر ارم قیصر نے کہا قوم کا اصل دشمن موجودہ کرپٹ ظالمانہ اور اجارہ دارانہ سیاسی انتخابی نظام ہے۔ جسکی وجہ سے امیر امیر تر اور غریب غربت و افلاس کی چکی میں پس رہا ہے۔ قوم کو اپنا مقدر بدلنے کیلے باہر آنا ہو گا۔ قوم ہمارے ساتھ ہے کیوں کہ ہم سیاست نہیں ریاست بچانے نکلے ہیں ریاست ہو گی تو سیاست ہو گی۔ حکمران اپنی سیاست بچا رہے ہیں انہیں ریاست کی فکر نہیں ہے۔ پاکستان عوامی تحریک کے قائدین خان محمد بلوچ، نعیم اجمیری، شفقت شیخ، راؤ اشتیاق احمد، عدنان رؤف انقلابی، نور فاطمہ، رابعہ انوار، تسبیحہ شفیق و دیگر رہنماء بھی موجود تھے۔


تبصرہ