ن لیگ کا تیسرا دور پہلے اور دوسرے دور حکومت سے بھی بدتر ہے: خرم نواز گنڈاپور

لاہور (18 مئی 2015) پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور کی زیر صدارت آئندہ مالی سال 2015,16 کے بجٹ کیلئے خصوصی اجلاس ہوا، اجلاس میں تمام ونگز کے صدور اور سینئر رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ ن لیگ کا تیسرا دور پہلے اور دوسرے دور حکومت سے بھی بدتر ہے۔ بجٹ سے قبل آئی ایم ایف کے مشن کا پاکستان آنا برا شگون ہے۔ حکومت عالمی بنک کے مطالبات کی بجائے غریب عوام کے حالات سامنے رکھے۔ حکمران 500 ارب روپے کے نئے ٹیکس اور بجلی گیس کی قیمتیں بڑھانے سے گریز کریں۔ مزید قرضے لینے کی بجائے سالانہ 2 ہزار ارب کی کرپشن روکیں۔ اجلاس میں شیخ زاہد فیاض، مشتاق نوناری ایڈووکیٹ، جواد حامد، احمد نواز انجم، فرح ناز، مظہر محمود علوی نے شرکت کی۔
اجلاس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ بجٹ میں ملازمین کی تنخواہیں اور پنشن میں 50 فیصد اضافہ کیا جائے۔ سستی بجلی کی پیداوار حاصل کرنے کیلئے پانی سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے شروع کیے جائیں۔ زرعی پیداوار میں اضافہ اور کسانوں کے معاشی حالات بہتر کرنے کیلئے انہیں کھاد، بیج، تیل اور بجلی موجودہ نرخوں سے کم از کم 30فیصد تک سستی فراہم کی جائے۔ قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کی رفتار بڑھانے کیلئے الگ سے بجٹ رکھا جائے۔
خرم نواز گنڈا پور نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی دو سالہ معاشی کارکردگی سے سخت مایوسی ہوئی۔ پاکستان 2 سال کے ترقیاتی بجٹ جتنا ہر سال سود ادا کررہا ہے۔ آمدن اور اخراجات میں 1 ہزار 49 ارب کا فرق ہے۔ ٹیکس چوری کم ہونے کی بجائے بڑھ گئی۔ 2 سالوں میں کوئی بھی معاشی ہدف حاصل نہیں کیا جاسکا۔ عالمی سطح پر کم ہونے والی تیل کی قیمتوں کا بھی معیشت اور عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا جاسکا۔ وزیر خزانہ نے غیر ترقیاتی اخراجات کم کرنے کی بجائے خسارہ قرضوں سے پورا کرنے کا آسان طریقہ ڈھونڈ رکھا ہے۔ 2 ہزار ارب ہر سال کرپشن کی نذر ہورہے ہیں۔ کرپشن کی روک تھام کیلئے قانون بھی نہیں بنایا گیا۔ قوم کا بال بال قرضوں میں جکڑدیا گیا۔ ملک آئی ایم ایف کے قرضوں پر چل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران کبھی آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کے کامیاب مذاکرات اور کبھی چین کے 46 ارب ڈالر کی داستانیں سناتے ہیں مگر یہ نہیں بتاتے کہ دوسالوں میں انہوں نے کیا کیا؟ ہر سال 1 ہزار ارب روپے کا سود ادا کرنے والا ترقی پذیر ملک اپنے پاؤں پر کیسے کھڑا ہو سکتا ہے؟


تبصرہ