روشن پاکستان کے دعویداروں نے قوم کو 16گھنٹے کی لوڈشیڈنگ اور ناامیدی کے سوا کچھ نہیں دیا: پاکستان عوامی تحریک کراچی
پاکستان عوامی تحریک نے ملک میں الیکشن کے دو سال مکمل ہونے پر جعلی اور دھاندلی زدہ الیکشن اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کو انصاف نہ ملنے کے خلاف 11 مئی کو یوم سیاہ کے طور پر منایا اس سلسلے میں پاکستان عوامی تحریک نے ملک بھر میں کالی پٹیاں باندھ کے احتجاج کیا۔ پاکستان عوامی تحریک سندھ زون کراچی کے قائدین لیاقت کاظمی، سید ظفراقبال قادری، قیصراقبال قادری، راؤ اشتیاق اور الیاس مغل نے گلشن اقبال آفس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا روٹی، کپڑا، مکان، روزگار، علاج، تعلیم، جان ومال کا تحفظ اور سستا، فوری انصاف قوم کا حق ہے مگر قوم محروم کیوں؟۔ حکمران عوام کے بنیادی حقوق اور انکی جان، مال، عزت اور انصاف مہیا کرنے میں مکمل ناکام ہوچکے ہیں۔ الیکشن سے قبل قوم کو جو سبز باغ دکھائے گئے تھے ان میں سے کوئی ایک وعدہ بھی پورا نہیں کیا گیا۔ حالات دن بدن ابتر ہوتے جا رہے ہیں، روشن پاکستان کا دعویٰ کرنے والوں نے قوم کو 16گھنٹے کی لوڈشیڈنگ اور اندھیروں کے سوا کچھ نہیں دیا۔ حکمرانوں کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے تعلیم یافتہ، باصلاحیت نوجوان مستقبل سے مایوس ہیں۔ صنعتیں بند، فیکٹریاں اور سرمایہ بیرون ملک منتقل ہو رہا ہے۔ معیشت کی تباہی اور نجکاری کے نام پر قومی اداروں کی لوٹ سیل جاری ہے۔ %5 اشرافیہ ملک کے %95 وسائل پر قابض ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ قوم کب تک ان کرپٹ حکمرانوں کی غلامی میں سسک سسک کر اپنے بچوں کو قتل کرتی رہے گی؟ قوم ڈاکٹر طاہرالقادری کا ساتھ دے، انکے حقوق انکی دہلیز پر ملیں گے۔ انہوں نے کہا جب تک ملک کا نظام تبدیل نہیں ہوگا یہ حکمران ایسے ہی قوم کو بے وقوف بنا کہ ملک لوٹتے رہیں گے۔ فرسودہ کرپٹ نظام کی تبدیلی تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان قدرتی اور معدنی وسائل سے مالا مال ملک اور دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت ہے مگر نااہل حکمرانوں کی وجہ سے قوم ترقی کے بجائے دہشت گردی، لوٹ مار، کرپشن، لاقانونیت، عدم تحفظ، ناانصافی، توانائی کے بحران، مہنگائی، فرقہ واریت، چوری ڈکیتی، اغواء، بھتہ خوری اور افلاس کا شکار ہے۔ قوم اہل لیڈروں سے محروم انگوٹھا چھاپ، کرپٹ، چور، بے ضمیر، نااہل، ٹیکس اور قرضہ خور، سرمایہ داروں اور جاگیر داروں، قاتلوں، اسمگلروں کے ہاتھوں میں یرغمال ہے۔
انہوں نے کہا پاکستان عوامی تحریک عنقریب قوم کو ان غلام، کرپٹ اور نا اہل حکمرانوں سے چھٹکارا دلا کر انکے غصب شدہ حقوق بازیاب کرائے گئی۔ قوم کا اصل دشمن موجودہ کرپٹ ظالمانہ اور اجارہ دارانہ سیاسی ا نتخابی نظام ہے۔ جسکی وجہ سے امیر امیر تر اور غریب غربت و افلاس کی چکی میں پس رہا ہے۔ قوم کو اپنا مقدر بدلنے کیلے باہر آنا ہوگا۔ قوم ہمارے ساتھ ہے کیوں کہ ہم سیاست نہیں ریاست بچانے نکلے ہیں ریاست ہوگی تو سیاست ہوسکے گی۔ حکمران اپنی سیاست بچا رہے ہیں انہیں ریاست کی فکر نہیں ہے۔ تھر میں ایک طرف بھوک، افلاس، صحت کی سہولتوں کی کمی سے انسانیت کا قتل ہورہا ہے تو دوسری طرف ارباب اقتدار عیاشیاں کررہے ہیں۔
11 مئی 2013 الیکشن کے موقع پر پاکستان عوامی تحریک واحد جماعت تھی جس نے الیکشن سے قبل ہی اصلاحات کا مطالبہ کیا اور اس کیلئے لانگ مارچ بھی کیا اور دھاندلی کی نشاندہی پہلے ہی کردی تھی۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے پہلے ہی کہا تھا اگر اصلاحات کے بغیر الیکشن ہوئے تو اس سے جعلی لوگ پھر سے اس ملک پر قابض ہوجائیں گے۔ موجودہ حکومت نے دو سال میں دہشت گردی کے فروغ، مسلح افواج کو بدنام، کالعدم تنظیموں کی سرپرستی، مذاکرات کے نام پر دہشت گردوں کو فرار کا موقع، لوٹ مار، لاقانونیت، مفاد پرست افراد کا چناؤ، لسانیت اور فرقہ واریت میں اضافے، قوم کے بنیادی مسائل کے حال میں ناکامی، ارکان اسمبلی کی خرید و فروخت، قانون شکنی، بدامنی، نرسوں اور نابینا افراد پر تشدد، خودکش حملوں، بم دھماکوں، اندھیروں، قرضوں، معاشی بد حالی، مہنگائی، خارجہ پالیسی کی عدم موجودگی، عدالتی فیصلوں کے عدم نفاذ، بے روزگاری، بلدیاتی الیکشن سے محرومی، علاج، صحت، فلاح سے محرومی، پولیس افسران اور اساتذہ کا قتل، خاندانی بادشاہت، نجکاری کے نام پر کرپشن، توانائی کے بحران، گیس کی قلت، غریبوں پر ٹیکس میں اضافے، مالیاتی کرپشن، مخالفین کو کچلنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔
پاکستان عوامی تحریک کے قائدین نے سانحہ ماڈل ٹاؤن پر بات کرتے ہوئے کہا کہ المناک سانحہ کو ایک سال مکمل ہونے کو ہے مگر متاثرین اب تک انصاف کے منتظر ہیں۔ حکمرانوں کی اپنی بنائی ہوئے JIT کی پہلی رپورٹ ابھی تک شائع نہیں ہونے دی گئی۔ موجودہ JIT جو حکمرانوں نے اپنے تحفظ کیلئے بنائی ہے، جسے پاکستان عوامی تحریک نے مسترد کیا ہے، وہ بھی اب تک مجرموں کا تعین نہیں کر سکی۔ ہم نے اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کے سامنے 70دن احتجاج کیا، قوم کے تحفظ کیلئے بننے والی پارلیمنٹ کے سامنے بیٹھے رہے مگر ہم آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔ ہم انصاف کیلئے کہاں جائیں؟کس سے انصاف مانگیں؟ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے قاتلوں کو اعلیٰ عہدوں سے نوازا گیا، پولیس اہلکاروں کو ترقیاں دیں گئیں، جبکہ دھرنوں پر طاقت کا ناجائز استعمال نہ کرنے پر ایماندار پولیس افسران کو نوکریوں سے برطرف کیا گیا۔
پنجاب کے وزیراعلیٰ نے کہا اگر JITنے انہیں ذمہ دار ٹھہرایا تو وہ خود کو قانون کے حوالے کر دیں گے انکی بنائی ہوئی JITنے انہیں ذمہ دار ٹھہرایا مگر آج تک استعفٰی نہیں دیا۔ ہمارا مطالبہ ہے وزیر اعلیٰ پنجاب فی الفور مستعفٰی ہوں اور خود کو قانون کے حوالے کریں، JIT کی پہلی رپورٹ فی الفور شائع کی جائے اور سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ملوث مجرموں کو عہدوں سے برطرف کیا جائے، رانا ثناء اللہ، سعد رفیق، عابد شیر علی، خواجہ آصف، پرویز رشید سمیت سانحہ میں ملوث اور FIR میں نامزد تمام افراد کو گرفتار کیا جائے۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کا کیس فوجی عدالے میں بھیجا جائے۔ ہم آرمی چیف سے اپیل کرتے ہیں سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ہمیں انصاف دلانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
الیاس مغل (سیکرٹری انفارمیشن PAT سندھ)


تبصرہ