جے آئی ٹی بعد میں بنی رپورٹ پہلے لکھی گئی، خرم نواز گنڈا پور
میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ جے آئی ٹی نے رپورٹ آئی جی کو پیش
کر دی
رپورٹ میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مرکزی ملزمان کو ’’کلین چٹ‘‘ دی گئی ہے
لاہور
(5 مئی 2015) پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور نے کہا
ہے کہ حکومتی جے آئی ٹی کی رپورٹ میں وزیر اعلیٰ پنجاب اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کے
مرکزی پولیس افسران ملزمان کو ’’کلین چٹ‘‘ دی گئی ہے۔ گذشتہ روز عوامی تحریک کے
مرکزی سیکرٹریٹ میں اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی نے
کام بعد میں شروع کیا تھا جبکہ اسکی رپورٹ اور ضمنیاں تک پہلے ہی لکھ لی گئی تھیں
اور سربراہ عوامی تحریک ڈاکٹر طاہر القادری نے پریس کانفرنس کے ذریعے قوم کے سامنے
حقائق رکھ دئیے تھے کہ پٹیالہ ہاؤس میں سابق صوبائی وزیر قانون کی نگرانی میں جے
آئی ٹی کی رپورٹ مرتب کرنے کے حوالے سے فل ڈریس ریہرسل کی گئی ہے، انہوں نے کہا کہ
میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ جے آئی ٹی نے رپورٹ مکمل کر کے آئی جی پنجاب کو
فراہم کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری اطلاع کے مطابق اس رپورٹ میں حکمرانوں کو
بری قرار دیا گیا ہے اور متعدد کانسٹیبلان کے خلاف محکمانہ انکوائری کی سفارش کی
گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہ ہونے کا موقف اصولی تھا
کیونکہ جن پر قتل کا الزام ہے وہ منصف کا کردار کیسے ادا کر سکتے ہیں اور جس جے آئی
ٹی میں انصاف کے طلبگار شریک نہیں ہوئے اس جے آئی ٹی کی رپورٹ کی کوئی اہمیت نہیں۔
انہوں نے کہا کہ جسٹس باقر نجفی کی سربراہی میں قائم جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں
قاتلوں کی طرف واضح طور پر اشارہ کر دیا گیا ہے اسی لئے پنجاب کے حکمران جو ڈیشل
کمیشن کی رپورٹ شائع نہیں کر رہے، انہوں نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن پر انصاف کیلئے
حکمت عملی طے کر لی ہے آسانی کے ساتھ حکمرانوں کے گلے پھانسی کے پھندوں سے نہیں بچ
سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مرکزی ملزم افسران کو پر کشش عہدوں پر
نوازا جا رہا ہے جن میں ایک ڈاکٹر توقیر بھی ہیں۔


تبصرہ