گندم خریداری مہم میں بے ضابطگیاں، عوامی تحریک کے وزیراعلیٰ سے 5 سوال
باردانہ کی تقسیم اور خریداری مہم میں 15 دن کی تاخیراور عملہ
کی بدتمیزی پر حکمران خاموش کیوں؟
سیکرٹری فوڈ نے اعتراف کیا تاخیر کا باعث مس مینجمنٹ ہے، اس پر حکومت نے انکوائری
کیوں نہیں کروائی ؟
بے ضابطگیوں پر مبنی سوالنامہ مرکزی صدر ڈاکٹر رحیق عباسی نے جاری کیا
لاہور
(30 اپریل 2015) پاکستان عوامی تحریک نے وزیراعلیٰ پنجاب سے گندم خریداری مہم میں
بے ضابطگیوں کے حوالے سے 5سوال کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسانوں سے جتنے بھی وعدے کیے
گئے تھے ان میں ابھی تک ایک بھی پورا نہیں ہوا۔ چھوٹا کاشتکار اپنی فصل کا 60 فیصد
اونے پونے بیچ چکا تاحال فوڈ ڈیپارٹمنٹ انہیں باردانہ فراہم نہیں کررہا۔ تمام تر
بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود 30 اگست کی شام تک فوڈ ڈیپارٹمنٹ نے صرف 20فیصد
باردانہ تقسیم کیا جو ملی بھگت اور سوچی سمجھی منصوبہ بندی کا حصہ ہے جس کا مقصد
کسانوں کا استحصال اور حکومتی سرپرستی رکھنے والے گندم مافیا کونوازنا ہے۔ سوالنامہ
پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی صدر ڈاکٹر رحیق عباسی نے جاری کیا ان کے سوالات کے
مطابق وزیراعلیٰ جواب دیں کہ
- گزشتہ سال 15 مئی کو باردانہ کی تقسیم کا آغاز ہوا اور 21 اپریل کو خریداری مہم شروع کر دی گئی، رواں سال موسم کی خرابی کی آڑ میں 15دن کی غیر ضروری تاخیر کیوں کی گئی؟
- سیکرٹری فوڈ پنجاب نے اعتراف کیا گندم خریداری مہم میں تاخیر کی بڑی وجہ مس مینجمنٹ ہے کیا وزیراعلیٰ پنجاب نے اس مس مینجمنٹ کے اعتراف کا نوٹس لیا اور کوئی انکوائری کروائی کیونکہ اس تاخیر سے لاکھوں کاشتکار خاندانوں کا استحصال ہوا۔
- پنجاب حکومت نے 25 اپریل کو باردانہ کی تقسیم شروع کرنے کا اعلان کیا جبکہ باردانہ کی تقسیم کا باضابطہ آغاز 29اپریل کو ہوا 4دن کی تاخیر سے باردانہ کی تقسیم کا عمل شروع کیوں ہوا؟ اور اس مجرمانہ تاخیر کا ذمہ دارکون ہے؟
- بہاولپور، ڈیرہ غازی خان اور جنوبی پنجاب کے دیگر اضلاع کے کاشتکار سراپا احتجاج ہیں کہ ہم قطاروں میں کھڑے رہتے ہیں جبکہ چور دروازوں سے حکومتی اراکین پارلیمنٹ کی چٹوں پر باردانہ تقسیم ہورہا ہے، وزیراعلیٰ پنجاب کسانوں کے اس احتجاج پر خاموش کیوں ہیں؟
- کسان سراپا احتجاج ہیں کہ فوڈ ڈیپارٹمنٹ والوں کے پاس باردانہ کیلئے جاتے ہیں تو وہاں ہمیں بتایا جاتا ہے کہ لسٹوں میں آپ کے غلط نام درج ہیں جس کے ذمہ دار ہم نہیں ریونیو ڈیپارٹمنٹ ہے جس نے لسٹیں تیار کیں، وزیراعلیٰ پنجاب غلط لسٹیں مرتب کرنے والوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کررہے؟
ڈاکٹر رحیق عباسی نے کہا کہ پنجاب حکومت فوڈ ڈیپارٹمنٹ اور ریونیوڈیپارٹمنٹ کی ملی بھگت سے رواں سال بھی چھوٹے کاشتکاروں کا استحصال کررہی ہے اوراپنے حق کیلئے آواز بلند کرنے والوں کے خلاف پولیس کو استعمال کیاجارہا ہے جو کسانوں کی توہین اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کی کوئی گندم خریداری پالیسی نہیں ورنہ آج محکمہ فوڈ 210ارب روپے کا مقروض نہ ہوتا اور کسان بے حال نہ ہوتے۔


تبصرہ