کسانوں کے مظاہروں نے وزیراعلیٰ کے دعوے جھٹلا دئیے: خرم نواز گنڈاپور
کسانوں کو گندم کی بھری ٹرالیوں سمیت مال روڈ پر احتجاج پر
مجبور نہ کیا جائے
ہوائی فائرنگ کرنے والے اہلکار گرفتار اور پولیس کو گندم خریداری مراکز سے ہٹایا
جائے
باردانہ میرٹ کی بجائے حکمران جماعت کے اراکین اسمبلی کی چٹوں پر تقسیم ہورہا ہے
لاہور
(29 اپریل 2015) پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور نے فیصل
آباد، جھنگ اور پنجاب کے دیگر اضلاع میں گندم خریداری مراکز پر پولیس نفری کی
تعیناتی اور ہوائی فائرنگ کے واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ
ہوائی فائرنگ کرکے دہشت پھیلانے والے اہلکار گرفتار اور پولیس کو گندم خریداری
مراکز سے ہٹایا جائے، کسانوں کے احتجاجی مظاہروں نے وزیراعلیٰ پنجاب کی شفاف گندم
خریداری مہم کے حوالے سے کیے گئے تمام دعوؤں کو جھٹلا دیا ہے۔ گزشتہ روز مرکزی
سیکرٹریٹ میں عہدیداروں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ باردانہ مانگنے والے
کسانوں کو پولیس کے ذریعے ہراساں کیاجارہا ہے اور کسانوں کو سارا سارا دن قطاروں
میں کھڑا رکھ کر ان کی تذلیل کی جارہی ہے۔ کاشتکاروں کی تذلیل بند کی جائے اور
انہیں سفارش اور رشوت کے بغیر باردانہ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کسان فو
ڈڈیپارٹمنٹ کے راشی عملہ اور حکمرانوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں، کوئی ان کی سننے
والا نہیں، گندم خریداری مہم کو سیاسی مفادات کا ذریعہ بنانے کا نتیجہ ہے کہ کسان
اپنی فصل کے دانے دانے سمیت رل رہا ہے۔ گندم کی سرکاری قیمت 1300روپے من ہے لیکن
جنوبی پنجاب میں کسان 1 ہزار سے 1100 روپے فی من گندم بیچ چکے ہیں اور یہ سب پنجاب
حکومت، محکمہ فوڈ ڈیپارٹمنٹ، فلور ملز مالکان اور نجی مافیا کی ملی بھگت کا نتیجہ
ہے۔ انہوں نے کہا کہ باردانہ میرٹ کی بجائے حکمران جماعت کے اراکین اسمبلی کی چٹوں
پر تقسیم ہورہا ہے جو بے ایمانی اور کسانوں کے ساتھ ظلم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسان
شدید دھوپ میں بھوکے پیاسے قطاروں میں کھڑے رہ جاتے ہیں اور چور دروازوں سے سفارشی
رقعے رکھنے والے گاڑیاں بھر بھر کر باردانہ لے جارہے ہیں اور کسان منہ تکتے رہ جاتے
ہیں اور اگر کوئی جائز احتجاج کی کوشش کرتا ہے تو پولیس ڈنڈوں اور لاٹھیوں سے انہیں
ڈراتی ہے۔ فیصل آباد کے بعض خریداری مراکز پر ہوائی فائرنگ کرنے کے واقعات بھی
رپورٹ ہوئے ہیں جن کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے
موجودہ حکمران اپنے اقتدار کے آٹھویں سال بھی کسانوں کے استحصال سے باز نہیں آئے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کے موجودہ حکمرانوں کی کوئی گندم خریداری پالیسی نہیں
حکمرانوں کے کسان دشمن اقدامات کی وجہ سے گندم اگانے والا کسان اور گندم کھانے والا
کسان رل گئے جبکہ شہباز حکومت مڈل مینوں اور فلور ملز مالکان کو نوازنے والی
پالیسیاں بنانے سے باز نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو گندم سے بھری ٹرالیاں
مال روڈ پر لا کر احتجاج کرنے اور گندم کو نذر آتش کرنے پر مجبور نہ کیا جائے۔


تبصرہ