دھاندلی کے ثبوت مانگے جارہے ہیں جبکہ چوری کے مال کی رسید نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر طاہرالقادری
جوڈیشل کمیشن الیکشن کمیشن کی آئینی حیثیت کا جائزہ لے: ڈاکٹر طاہرالقادری
الیکشن کمیشن کی تشکیل میں آئین کے آرٹیکل 213، 218 اور سپریم کورٹ کے فیصلہ کو نظر
انداز کیا گیا
کارکنوں کی رہائی پر اظہار اطمینان، حکمرانوں نے کارکنوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے، گفتگو
جوڈیشل کمیشن برائی کی جڑ پر توجہ دے یہ برائی غیر آئینی الیکشن کمیشن کی تشکیل ہے
غیر آئینی الیکشن کمیشن کے کرائے انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آنے والی حکومت بھی
غیر آئینی ہے

لاہور (28 اپریل 2015) پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا ہے کہ دھاندلی کی تحقیقات کرنے والا جوڈیشل کمیشن 2013 کے انتخابات کروانے والے الیکشن کمیشن کی آئینی حیثیت کا جائزہ لے، آیا یہ الیکشن کمیشن آئین کے آرٹیکل 213، 218 اور سپریم کورٹ کے 8 جون 2012 کے فیصلہ کی روشنی میں تشکیل پایا یا نہیں؟ اور یہ کہ انتخابات ( (RPOعوامی نمائندگی کے ایکٹ 1976 کے مطابق ہوئے؟ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی رہنماؤں سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ دھاندلی کے ثبوت مانگے جارہے ہیں کیا چوری کے مال کی کوئی رسید ہوتی ہے؟ علامات کے علاج سے کچھ حاصل نہیں ہو گا بیماری کو جڑ سے اکھاڑا جانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن اعلیٰ عدلیہ کے معزز ججز پر مشتمل ہے اور بلاشبہ دھاندلی کی شکایات کے حوالے سے تحقیقات کرنے والا یہ کمیشن پاکستان کی تاریخ کاطاقتور ترین کمیشن ہے۔ اس تاریخی کمیشن کا حقیقی فائدہ انتخابی نظام کو پہنچنا چاہیے۔ جوڈیشل کمیشن برائی کی جڑ پر توجہ دے یہ برائی غیر آئینی الیکشن کمیشن کی تشکیل ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر آئینی الیکشن کمیشن کے کرائے انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آنے والی حکومت بھی غیر آئینی ہے؟ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ غیر آئینی الیکشن کمیشن اور انتخابات کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن کو خط لکھ دیا ہے ہم منتظر ہیں کہ جوڈیشل کمیشن تجاویز دینے کیلئے ہمیں بھی بلائے اس حوالے سے بھرپور دلائل دینگے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے گزشتہ روز لاہور کے 11 کارکنوں کی باعزت رہائی پر اطمینان کا اظہار کیا اور کارکنوں کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ہمارے کارکنوں پر ظلم و ستم کی انتہا کی، ردعمل میں کارکنوں نے بھی جس عزم اور حوصلہ کا مظاہرہ کیا اس کی بھی سیاسی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹے حکمران اور ان کے درج کروائے گئے جھوٹے مقدمات جلد اپنے انجام کو پہنچیں گے اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکن سرخرو ہونگے۔


تبصرہ