بوریوالا: موجودہ حکمرانوں کے ہوتے ہوئے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے اصل ملزمان کیفر کردار تک نہیں پہنچ سکتے، ڈاکٹر رحیق احمد عباسی

بورے والا اپڈیٹس نیوز (چوہدری اصغر علی جاوید) پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی صدر ڈاکٹر رحیق احمد عباسی نے کہا ہے کہ حکمران کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں وزراء، ارکان اسمبلی، سرکاری وسائل اور مشینری کا استعمال کرکے جس کامیابی کا جشن منا رہے ہیں اُس پر اُنکی عقل کا ماتم ہی کیا جا سکتا ہے، موجودہ حکمرانوں کے ہوتے ہوئے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے اصل ملزمان کیفر کردار تک نہیں پہنچ سکتے، حکومت نے جان بوجھ کر وزیر اعلیٰ پنجاب اور دیگر ذمہ داروں کو بچانے کے لیے جوڈیشنل کمیشن کی رپورٹ ابھی تک دبا کر رکھی ہوئی ہے، اس سانحہ کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے جو جے آئی ٹی بنائی گئی ہے اُس میں شامل پولیس افسران کے کئی پیٹی بھائی قاتلوں میں شامل ہیں تو اسکی رپورٹ کیسے شفاف ہو سکتی ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان عوامی تحریک جنوبی پنجاب کے رہنما چوہدری فیاض احمد وڑائچ (سابق ایم پی اے) کی رہائش گاہ پر اپنے مختصر دورہ کے دوران میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر پی اے ٹی کے سٹی صدر افضال طاہر بھٹی، صدر لائرزونگ ”PAT“ چوہدری طاہر عظیم ایڈووکیٹ اور دیگر مقامی راہنما بھی موجود تھے۔ رحیق احمد عباسی نے کہا کہ ڈاکٹر طاہرالقادری پر بیماری کا بہانہ بنا کر بیرون ملک جانے کا الزام لگانے والے بغیر بیماری کے 10 سال بیرون ملک کیا کرتے رہے؟ قائد تحریک ڈاکٹر طاہرالقادری کو ڈاکٹروں نے 70 فیصد صحت یاب قرار دے دیا ہے اور وہ بہت جلد وطن واپس آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن پر بنائی گئی جعلی جے آئی ٹی کو ہم مسترد کرتے ہیں یہ جعلی جے آئی ٹی میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف نے خود کو اور اپنے دیگر ساتھوں کو بچانے کے لیے ایک ڈرامہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یمن کا مسئلہ حساس معاملہ تھا اسے حکومت کو اسمبلی میں نہیں لانا چاہئے تھا، اس مسئلے کا حل جنگ نہیں، حکومت کی اس مسئلے پر غیر ذمہ دارانہ اور غیر دانشمندانہ حکمت عملی نے اسے خراب کیا ہے۔


تبصرہ