دہشتگردی کے خاتمہ کیلئے پاک افغان آرمی چیف کا مل بیٹھنا خوش آئیند ہے، خرم نواز گنڈا پور
جنرل راحیل کی کرشماتی شخصیت نے نا ممکن کو ممکن کر دکھایا
فوجی عدالتیں ناگزیر، آئینی ماہرین کی قانونی موشگافیوں سے دہشتگردی کی جنگ متاثر ہو
گی
لاہور
(19 اپریل 2015) پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور نے کہا ہے
کہ دہشتگردی کے خاتمہ کیلئے پاک افغان آرمی چیف کا ایک میز پر بیٹھنا خوش آئند اور’’گیم
چینجر موو‘‘ ہے۔ اس ملاقات سے خطہ کے کروڑوں عوام کو امن کا تحفہ ملے گا اورخطہ کو
عدم استحکام سے دوچار کرنے والوں کو منہ کی کھانا پڑے گی۔ انہوں نے کہاکہ آرمی چیف
جنرل راحیل شریف کی کرشماتی شخصیت نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا، خوشی ہے اس وقت پاک
فوج کی کمان ایک ایسے جنرل کے ہاتھ میں ہے جو میدان جنگ میں اپنے فیصلوں کی صورت میں
بول رہا ہے اور اسے فوج کے جوان، صحافت کے قلمی سیاسی اور عوامی حلقوں کی طرف سے بھرپور
اعتماد میسر ہے اور اس سے بڑھ کر خوشی والی بات یہ ہے کہ آرمی چیف اس اعتماد کو ملک
و قوم کی سلامتی کو محفوظ بنانے کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔ گذشتہ روز پارٹی رہنماؤں
اور کنٹونمنٹ بورڈ میں الیکشن میں حصہ لینے والے عوامی تحریک کے ٹکٹ ہولڈرز سے بات
چیت کرتے ہوئے انہوں کہا کہ فوجی عدالتوں کے کردار محدود کرنے سے دہشتگردی کے خلاف
لڑی جانے والی جنگ کو دھچکا لگے گا۔ ہزاروں شہریوں کے جان و مال سے کھیلنے والے دہشتگرد
انسانی حقوق کے حوالے سے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ پاکستان حالت جنگ میں ہے، ہنگامی
حالات میں ہنگامی فیصلے ناگزیر ہوتے ہیں۔ ایسی لاتعداد مثالیں موجودہیں کہ انسانی حقوق
کے چئیمپنز ممالک نے بھی اپنی سیکیورٹی کیلئے گوانتانوموبے جیسے فیصلے کئے اور اپنے
عوام کو محفوظ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ آئین پر عبور رکھنے والے آئینی و قانونی موشگافیوں
کے ذریعے دہشتگردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ کو نقصان نہ پہنچائیں۔


تبصرہ