وزیراعلیٰ پنجاب بچوں کو کتابیں نہیں دے سکتے تو استعفیٰ دے دیں: عوامی تحریک پنجاب
تعلیم کا فنڈ’’پڑھو پنجاب بڑھو پنجاب ‘‘کی آڑ میں ذاتی تشہیر پر
خرچ ہورہا ہے
کتابیں ہونگی تو بچے پڑھیں گے، ٹیکسٹ بورڈ کے چیئرمین کو گرفتار کیا جائے
نیا تعلیمی سال شروع ہونے کے باوجود سرکاری سکولوں کے لاکھوں بچے کتابوں سے محروم ہیں
وزیراعلیٰ کا بس چلے تو تعلیمی ادارے بیچ کر رقم لوہے کے پلوں کی تعمیر پر خرچ کردیں
لاہور
(16 اپریل 2015) پاکستان عوامی تحریک پنجاب کے صدر بشارت جسپال نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ
پنجاب سرکاری سکولوں کے بچوں کو کتابیں نہیں دے سکتے تو استعفیٰ دے دیں، نیا تعلیمی
سال یکم اپریل سے شروع ہے تاحال 70فیصد سکولوں میں بچوں کو کتابیں نہیں ملیں جو پنجاب
حکومت کی نااہلی اور ایک مجرمانہ اقدام ہے۔ بشارت جسپال نے کہا کہ ’’پڑھو پنجاب اور
بڑھو پنجاب ‘‘کے نعرے کی آڑ میں تعلیمی فنڈز کے کروڑوں روپے ذاتی تشہیر پر خرچ کرنے
والے خدا کا خوف کریں۔ کتابیں ہونگی تو بچے پڑھیں گے۔ پاکستان عوامی تحریک یوتھ ونگ
کے صدر شعیب طاہر، مصطفوی سٹوڈنٹ کے صدر عرفان یوسف نے کتابوں کی عدم فراہمی کی شدید
الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب ٹیکسٹ بورڈ والے کتابیں نہیں نوٹ چھاپ رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی توجہ میٹرو بس، پنک، اورنج منصوبوں پر مرکوز ہے۔ دوسری جانب ہزاروں
سرکاری سکولوں کے غریب ماں باپ کے بچے مفت کتابوں سے محروم ہیں اور ان کا قیمتی وقت
برباد ہورہاہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں پنجاب ٹیکسٹ بورڈ کے چیئرمین کو
بروقت کتابوں کی پرنٹنگ یقینی نہ بنانے پر گرفتار کیا جائے اور نااہلی کو قبول کرتے
ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مستعفیٰ ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ 7سال سے تعلیم کا شعبہ پنجاب
حکومت کی مجرمانہ غفلت کا شکار ہے تعلیمی نصاب کی بروقت اشاعت نہ ہونے والا واقعہ اگر
کسی مغربی ملک میں ہوا ہوتا تو وہاں کے عوام حکمرانوں کو اٹھا کر سمندرمیں پھینک دیتے۔
شعیب طاہر نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا بس چلے تو وہ تعلیمی ادارے بیچ کر رقم لوہے
کے پلوں کی تعمیر پر خرچ کر دیں۔


تبصرہ