پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ کا توہین رسالت کے حوالے سے عالمی رہنماؤں کے نام کھلا خط
آزادیء اظہار کا حق چند اقوام کو دے کر اس گھوڑے کو بے لگام نہیں چھوڑا جاسکتا۔
ڈاکٹر طاہرالقادری
اقوام متحدہ سے مذاہب اور مقدس ہستیوں کی توہین کو قابل تعذیر جرم قرار دینے کا
مطالبہ
پاکستان (APNA انٹرنیشنل/ بیورو چیف) لاہور بیورو اور مرکزی آفس برلن MCB یورپ کے مطابق
گذشتہ دنوں فرانس میں اسلام کے خلاف توہین آمیز خاکوں کی دوبارہ اشاعت پر پاکستان عوامی
تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے سخت احتجاج کرتے ہوئے امریکی صدر اوباما، سیکرٹری
جنرل اقوام متحدہ بانکی مون، او آئی سی کے سیکرٹری جنرل ایاد امین مدنی اور برطانوی
وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کو ایک خط تحریر کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ’’اقوام متحدہ،
انٹرنیشنل ہیومن رائٹس کمیشن اور یورپی یونین توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے معاملہ
کو حل کرنے میں ناکام رہے ہیں، جس کی وجہ سے انتشار اور تصادم کا ماحول پیدا ہو گیا
ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا آزادی اظہار صرف کسی مخصوص طبقہ یا چنی گئی قوم کا ہی حق ہے؟ کیا آزادیء اظہار کے بے لگام گھوڑے کواس طرح کھلا چھوڑا جاسکتا ہے؟ ایک دین کے پیروکاروں
کیلئے حد سے زیادہ بڑھی ہوئی آزادی رائے، اسکے اظہار کے حق کی مکمل پشت پناہی اور اسی
مسئلہ پر دوسروں کیلئے قدغن دوہرا معیار ہے۔ جس کی کسی طرح بھی حمایت نہیں کی جاسکتی۔‘‘
انہوں نے لکھا کہ ’’مسلمانوں اور اسلام کے خلاف دشنام طرازی اور غیراخلاقی مواد کی اشاعت پر کئی مواقع پر مسلمانوں نے صبروتحمل کا مظاہرہ کیا تا کہ عالمی امن قائم رہے۔ اس رویہ کی روشنی میں عالمی امن کے قیام کا تقاضہ ہے کہ اقوام متحدہ فوری طور پراس ضمن میں واشگاف قوانین مرتب کرے، کسی مذہب کی توہین اوراسکی مقدس ہستیوں کے خلاف کسی بھی قسم کے قابل اعتراض مواد کی اشاعت کو قابل تعذیر جرم ٹھہرائے اور اسے حقیقی معنوں میں نافذ کرے۔‘‘
ڈاکٹر طاہرالقادری نے یورپین ممالک کے آئین اور قوانین کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ ’’بعض ممالک میں عیسائیت کے خلاف بات کرنا جرم ہے۔ اگر دنیا نے اس انتہائی اہم اور نازک مسئلے پر ذمہ داری نہ دکھائی تو تہذیبوں کے تصادم سے بچنا ممکن نہیں رہ سکے گا۔ دنیا کو تہذیبوں کے تصادم سے بچانے کیلئے آزادی اظہار کی نئی تعریف ضروری ہوگئی ہے۔ توہین رسالت آزادیء اظہار نہیں بلکہ ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے بنیادی حق سے انحراف ہے، ان کے عقیدہ، انکی سوچ، انکی جذبات کی سراسر توہین ہے۔‘‘
انہوں نے مغربی دنیا کے سامنے سوال اٹھاتے ہوئے اپنے خط میں لکھا ہے کہ ’’یورپ کے بعض ممالک میں ہولو کاسٹ کا انکار جرم ہے۔ کیا یہ آزادیء اظہار کے خلاف نہیں؟ ہمیں دنیا کو دہرے معیار سے نکالنا ہوگا، یہی وقت کا تقاضا ہے۔‘‘


تبصرہ