وزیراعظم بجٹ سے قبل خاندانی اثاثے پاکستان لانے کا اعلان کریں: ڈاکٹر طاہرالقادری
قرضوں کے عوض ملکی وقار رہین رکھ دیا اور غیر ملکی مداخلت کے دروازے کھولے گئے
کسان گندم پیدا کر کے اور نوجوان ڈگریاں حاصل کر کے بھی بے روزگار ہیں
بجٹ میں حکمران غیر ملکی مالیاتی اداروں کوعوام کی کھال اتارنے کا یقین دلاتے ہیں: گفتگو
لاہور (19 مئی 2017) پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا کہ حکمرانوں نے بے تحاشا قرضے لیکر ملکی وقار رہن رکھ دیا اور غیر ملکی مداخلت کے دروازے کھول دیئے۔ وزیراعظم آئندہ مالی سال کے بجٹ میں اپنے خاندانی اثاثے پاکستان لانے کا اعلان کریں، جس ملک کا وزیراعظم اپنے کھربوں روپے بیرون ملک رکھے اس ملک میں غیر ملکی سرمایہ کار اپنا پیسہ کیوں لائیں گے؟ کسان گندم پیدا کرکے اور نوجوان ڈگری حاصل کر کے بھی معاشی اعتبار سے بے حال اور بے روز گار ہیں۔ معیشت قرضوں کی ادائیگی اور کرپشن کے خاتمے سے مضبوط ہوگی، وہ سینئر راہنماؤں سے ٹیلی فون پر گفتگو کر رہے تھے۔
ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ جس ملک میں غریب مریض دوائی اور مزدور کا بچہ تعلیم کے لیے ترسے اس ملک کے وزیر اعظم کوہر غیر ملکی دورہ پر 10 ملین خرچ کرتے ہوئے شرم آنی چاہئے، انہوں نے کہا کہ بجٹ کاغذی کارروائی ہے اس کاغذی کارروائی کے ذریعے غیر ملکی مالیاتی اداروں کو یقین دلایا جاتا ہے کہ ہم اپنے عوام کی کھال اتارنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا ہے کہ معاشی استحکام کے دعوے پانامہ کی منی ٹریل کی طرح جھوٹ کا پلندہ ہیں، جس ملک کا کسان صنعتکار اور مزدور حکومتی مظالم پر سراپا احتجاج ہو وہاں معیشت مستحکم کیسے ہو سکتی ہے، انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کی جمہوری حکومتیں قومی وسائل تعلیم، صحت، انصاف، سوشل سیکورٹی پر خرچ کرتی ہیں مگر کرپٹ اور کمشن خور حکمران اپنے کمشن اور ذاتی کاروبار چمکانے کے لیے قومی دولت سڑکوں پر خرچ کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ پاکستان کے کروڑوں غریب خاندانوں کے حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی وہ آج بھی بھوکے رہ کر بجلی، گیس کے بل اور پرائیویٹ سکولوں کی فیسیں دینے پر مجبور ہیں، انہوں نے کہا کہ جب تک قاتل حکمران اور یہ ظالم نظام مسلط ہے غریب کا استحصال ہوتا رہے گا اور ملک قرضوں کی چکی میں پستا رہے گا۔
تبصرہ