”قرض چڑھاؤ، حکومت چلاؤ“ کی معاشی پالیسی کب تک چلے گی؟: ریحان مقبول
لگتا ہے آئی ایم ایف والوں کا ہدف معاشی استحکام نہیں خانہ جنگی ہے: سینئر نائب صدر پی اے ٹی
اشرافیہ کی مراعات پر کوئی سوال نہیں، غریب کے استعمال کی ہر چیز پر ٹیکس بڑھ رہا ہے
عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں جبکہ پاکستان میں غریب گر رہا ہے، ایڈیشنل سیکرٹری جنرل میاں کاشف

لاہور(یکم جون 2026) پاکستان عوامی تحریک کے سینئر نائب صدر میاں ریحان مقبول نے کہا ہے کہ ”قرض چڑھاؤ، حکومت چلاؤ“ کی معاشی پالیسی کب تک چلے گی؟ ،ہر اس چیز پر ٹیکس بڑھایا جارہا ہے جو عام آدمی کے استعمال کی ہے، لگتا ہے آئی ایم ایف والوں کا ہدف معاشی استحکام نہیں خانہ جنگی ہے، بے بس حکمران بھی اس حقیقت سے آگاہ ہیں۔ بجلی، گیس کے بل ادا کرنے کے بعد محنت کشوں اور یومیہ اجرت پر زندگی بسر کرنے والوں کے پاس کھانے کے لئے کچھ نہیں بچتا، ہر مہینے تنخواہ دار طبقہ اور محنت کش طبقہ بجلی کے بل آنے کے خوف میں مبتلا رہتا ہے، دنیا کے کسی اور ملک میں ایسا نہیں ہوتا، ہر جگہ لوگ اپنی آمدن اور اپنے اخراجات کے بارے میں آگاہ ہوتے ہیں یہاں کچھ پتہ نہیں بجلی کا بل 5ہزار آجائے یا 50 ہزارآجائے۔ ایسے حالات میں عام آدمی کب تک جسم اور جان کا رشتہ برقرار رکھنے کی جنگ لڑ سکتا ہے۔ 110ڈالرفی بیرل قیمتیں کم ہو کر 95 ڈالر پر آگئی ہیں، پاکستان کے لوگوں کے لئے ریلیف کہاں ہے؟ کم از کم فی لیٹر 100روپے قیمت فوری کم کی جائے۔ اگر اس حساب سے قیمتیں بڑھ سکتی ہیں تو کم کیوں نہیں ہو سکتیں؟ اب تو ماشا اللہ پاکستان کی شاندار اور جاندار سفارتکاری کی وجہ سے جنگ کے بادل چھٹ چکے ہیں، صلح نامہ پر دستخط ہونے کے قریب ہیں، پاکستان کی وجہ سے خطہ میں امن کی فاختائیں اڑ رہی ہیں، اس کے باوجود پاکستان میں مہنگائی کے میزائل کیوں گر رہے ہیں؟ عام آدمی کو سکھ کا سانس لینا کب نصیب ہو گا؟
دریں اثناء پاکستان عوامی تحریک کے ایڈیشنل سیکرٹری جنرل میاں کاشف نے کہا کہ عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں جبکہ پاکستان میں غریب گر رہا ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان عوامی تحریک محض تنقید کی سیاست نہیں کرتی، ہم ہمیشہ مثبت سیاسی کردار ادا کرتے ہیں، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ آئی ایم ایف کے قرضوں سے پاکستان کی معیشت کبھی نہیں سنبھل سکے گی، معیشت کو پاؤں پر کھڑا کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ قومی وسائل کا رخ زراعت کی ترقی اور آبی ذخائر کی تعمیر کی طرف موڑا جائے، کم از کم دس سال کے لئے زرعی ایمرجنسی نافذ کی جائے اور اس دوران بجلی، ڈیزل، کھادیں، بیجز کی قیمتیں آدھی کی جائیں، کسانوں کو انٹرسٹ فری قرضے دئیے جائیں، مارکیٹنگ کے نظام کی تنظیم نو کی جائے، جس دن زرعی شعبہ پاؤں پر کھڑا ہو گیا قومی معیشت اور ہمارا صنعتی شعبہ بھی پاؤں پر کھڑا ہو جائے گا، کشکول ٹوٹ جائے گا اور پاکستان قرضوں کی ذلت سے نجات حاصل کر لے گا، قومی وسائل کا رخ زراعت اور اس سے منسلک تمام شعبہ جات کی طرف موڑا جائے۔


تبصرہ