کراچی: پاکستان عوامی تحریک کے 28ویں یوم تاسیس کی تقریب
پاکستان عوامی تحریک کے 28ویں یوم تاسیس کے موقع پر دنیا بھر کے علاوہ ملک بھر میں سیکڑوں مقامات پر تقریبات منعقد ہوئیں۔ کراچی کے تمام ڈسٹرکٹ، ٹائونز، اور یوسیز میں پاکستان عوامی تحریک کے تمام دفاتر میں تقریبات کا انعقاد ہوا جس میں ہزاروں افراد نے انقلاب کیلئے تجدید عہد وفا کیا۔ کراچی میں مرکزی پروگرام ’’یوم تجدید عہد وفا سیمینار‘‘ پاکستان عوامی تحریک کے ڈویژنل سیکرٹریٹ گلشن اقبال میں ہوا، جسکی صدارت پاکستان عوامی تحریک کراچی سندھ کے صدر صفدر قریشی نے کی جبکہ مہمان خصوصی امیر تحریک منہاج القرآن کراچی قاضی زاہد حسین تھے۔
عزم انقلاب سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے قاضی زاہد حسین نے کہا پاکستان عوامی تحریک کی بیداری شعور مہم کے 28 سال مکمل ہو گئے ہیں، قوم کا شعور انقلاب کیلئے بیدار ہوا ہے اور موجودہ کرپٹ، ظالم، مفاد پرست، ملک و قوم دشمن نظام سے بے زار ہو چکا ہے، قوم ہر صورت کرپٹ نظام سے چھٹکارا چاہتی ہے۔ ملک کی بقاء و سلامتی کرپٹ نظام کو سمندر برد کرنے میں ہے۔ موجودہ نطام صرف 200 خاندانوں کو تحفظ دیتا ہے جبکہ 20 کروڑ پاکستانیوں کا دشمن ہے۔
صفدر قریشی نے کہا کہ پاکستان کی خوشحالی اور کرپٹ نظام کے خاتمے کا وقت قریب آگیا ہے۔ قوم اپنی اور اپنی نسلوں کی بقاء اور سلامتی کیلئے ڈاکٹر طاہرالقادری کا ساتھ دینے کیلئے تیار ہے، انہوں نے کہا کارکنان الیکشن کی بھر پور تیاریاں کریں پاکستان عوامی تحریک آنے والے الیکشن میں بھر پور حصہ لے گی۔
مشتاق صدیقی نے کہا پاکستان میں تبدیلی اور انقلاب کی حقیقی قوت پاکستان عوامی تحریک ہے باقی سب کھوکھلے نعرے ہیں قوم کی نظریں قائد انقلاب کی کال کی منتظر ہیں وقت آنے پر کروڑوں افراد اس نظام کے خلاف بغاوت کریں گے۔
پاکستان عوامی تحریک حیدر آباد کے قائدین کامران پرویز، پرویز احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹائون کے قاتل جلد اپنے انجام کو پہنچیں گے اور شہداء انقلاب کو انصاف ملے گا۔
مرزا جنید علی نے کہا پاکستان عوامی تحریک قائداعظم اور اقبال کے پاکستان کی تلاش میں سرگرداں ہے ہم قائد کے پاکستان کو بازیاب کرا کے رہیں گے۔
سیمینار سے سید ظفر اقبال، اطہر جاوید صدیقی، عبد الواحد قاسمانی، مسعود عثمانی، خان محمد بلوچ، زاہد لطیف، شفقت شیخ، فوزیہ جنید، عدنان رؤوف انقلابی، شاہد ملک، عرفان یوسف ودیگر نے بھی خطاب کیا۔
رپورٹ: الیاس مغل (سیکرٹری اطلاعات PAT کراچی سندھ)
تبصرہ