پاکستان عوامی تحریک فیصل آباد کا اجلاس
پاکستان عوامی تحریک فیصل آباد کا اجلاس 28 اگست 2016ء کو ہوا، جس میں ضلعی صدر رانا طاہرسلیم، حافظ رب نوازانجم، میاں کاشف محمود اور دیگر عہدیداروں نے شرکت کی۔ اجلاس میں موجودہ ملکی صورتحال اور حکومتی پالیسیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ رانا طاہرسلیم، حافظ رب نوازانجم اور میاں کاشف محمود نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں حکومت اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوامی تحریک، عوامی مسلم لیگ اور تحریک انصاف کے کارکنوں کے گھروں پر چھاپے قابل مذمت اور غیر قانونی ہیں۔ عدالت پولیس کو چھاپوں اور پکڑ دھکڑ سے روکے۔ چھاپے ان کے گھروں میں پڑنے چاہئیں جنہوں نے ماڈل ٹاون میں بے گناہوں کو قتل کیا اور ملکی دولت کو لوٹا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے پولیس کے ذریعے سیاسی کارکنوں اور خواتین پر تشدد کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ کے آرڈر کا سہارا لیا۔ صبح آرڈر جاری ہوا اور چند گھنٹے بعد وحشت اور بربریت شروع ہو گئی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے معزز جج آئین، قانون، عوام اور جمہوریت کے وسیع تر مفاد میں اپنا آرڈر واپس لیں بصورت دیگر حکومت پر امن سیاسی کارکنوں کو خون میں نہلائے گی اور اس آرڈر کے تحت بنیادی انسانی حقوق کو بلڈوز کرے گی۔
اجلاس کے شرکاء کا کہنا تھا کہ عدالتوں کے احکامات اور فیصلوں سے عام شہری کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہوتا ہے مگر اس آرڈر سے بنیادی انسانی حقوق پامال ہو رہے ہیں۔ خواتین پر لاٹھی چارج بزدلی اور فرعونیت ہے۔ شریف برادران نے ہماری دو خواتین کے منہ میں گولیاں مروائیں، ملک میں کوئی عدالت اور قانون ادارہ ہے تو اس بدمعاشی کا بھی نوٹس لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور جمہوریت بچانے کیلئے شریف برادران کو ایوانوں سے نکالنا ہو گا۔
تبصرہ