ڈاکٹر طاہرالقادری کی شیخ رشید، جہانگیر ترین و دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس
پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید، تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین و دیگر رہنماؤں کے ہمراہ عوامی تحریک کے مرکزی سیکرٹریٹ میں پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے قاتلوں اور پانامہ کے کرپٹ کرداروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے اپوزیشن جماعتیں اور قوم 3 ستمبر کو یوم احتجاج کے طور پر منائے۔ گونواز گو تک اپوزیشن کی یہ تحریک جاری رہے گی تمام جماعتوں کو احتجاج میں شریک کیا جائے گا۔ پاکستان کی سالمیت پر مسلسل حملوں پر خاموش شریف حکومت کا مسند اقتدار پر بیٹھے رہنا ملک کے مفاد میں نہیں۔ عوامی تحریک اور تحریک انصاف 3 ستمبر کے ایک دوسرے کے احتجاج میں بھرپور شرکت کریں گی۔
سربراہ عوامی تحریک نے تحریک انصاف اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کا مرکزی سیکرٹریٹ میں استقبال کیا۔ دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس سے قبل ملکی سیاسی صورتحال، 3 ستمبر کے احتجاج اور بعد کی حکمت عملی کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ تحریک انصاف کی طرف سے چودھری محمد سرور، اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید، اعجاز چودھری، رکن صوبائی اسمبلی شعیب صدیقی اور عوامی تحریک کی طرف سے ڈاکٹر حسن محی الدین، خرم نواز گنڈا پور، بشارت جسپال، مطلوب وڑائچ و دیگر ملاقات میں شریک تھے۔
ڈاکٹر طاہرالقادری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 3 ستمبر کو ملک گیر احتجاج ہو گا، عوامی تحریک راولپنڈی میں قصاص و سالمیت پاکستان مارچ کرے گی جبکہ لاہور میں پاکستان مارچ ہو گا۔ دونوں جماعتیں دونوں شہروں میں ایک دوسرے کو بھر پور سپورٹ کریں گی، ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ تمام اپوزیشن جماعتوں کو کرپٹ اور قاتل حکومت کے خلاف احتجاج میں شرکت کی دعوت دے رہے ہیں اپوزیشن جماعتیں اس احتجاج کو اپنی تحریک سمجھیں اور قاتلوں سے ملک و قوم کو نجات دلائیں۔ انہوں نے کہاکہ آل شریف نے پاکستان کے دشمنوں سے مل کر سالمیت پر سمجھوتہ کر لیا ہے۔ فوج کے خلاف زبان درازی ہو یا پاکستان کو گالیاں دی جائیں، وزیراعظم کے لب سلے رہتے ہیں۔ کابینہ نے بھی سالمیت پر حملوں کی مذمت نہیں کی۔ شریف خاندان کی ملوں میں 3 سے 4 سو بھارتی کام کرتے ہیں، کلبھوشن کی گرفتاری کا سراغ بھی انہیں کی ملوں میں کام کرنیوالوں سے ملا، پھر کہتا ہوں پاکستان کو گالی دینے کی تقریر کا ڈرافٹ اسلام آباد سے گیا۔ پاکستان کی تاریخ میں ایسا وزیراعظم نہیں دیکھا جو سالمیت پر حملوں پر بھی خاموش رہتا ہے، ڈاکٹرز، نرسز، کسان، ٹیچرز تنہا احتجاج کرنے کی بجائے اکٹھے ہو کر باہر نکلیں جن ماؤں کے بچے اغوا ہوتے ہیں وہ بھی باہر نکلیں۔ ہماری تحریک سے سانحہ ماڈل ٹاؤن، پشاور، کوئٹہ، سانحہ گلشن اقبال، سانحہ واہگہ بارڈر، کراچی کے سانحات کے شہدا کے ورثاء کو انصاف ملے گا، انہوں نے کہاکہ پنجاب دس مرتبہ دہشتگردوں کا باپ ہے۔ دہشتگردی کی پنیری پنجاب میں اگتی ہے اسی لئے یہاں پر آپریشن نہیں ہونے دیا جاتا۔
تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام جماعتوں کو کرپٹ حکومت کے خلاف احتجاج میں شرکت کی دعوت دے رہے ہیں، فرداً فرداً ہر جماعت کے پاس جائیں گے۔ افسوس پانامہ لیکس کا فی الحال کوئی نتیجہ نہیں نکلا لیکن تحقیقات اور احتساب تک یہ معاملہ ختم نہیں ہو گا۔ 3 ستمبر کے بعد ہمارے احتجاج میں شدت آئے گی۔ حکمران وقت حاصل کرنا چاہتے ہیں اب انہیں یہ وقت نہیں ملے گا اب فیصلے سڑکوں پر ہونگے۔ انہوں نے کہاکہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے انصاف کا نہ ہونا المیہ ہے ہم عوامی تحریک کے اس مطالبے کے ساتھ ہیں شہدائے ماڈل ٹاؤن کو انصاف ملنا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ ق لیگ، پیپلز پارٹیس ے بھی رابطے ہیں دیگر جماعتوں سے بھی رابطے کریں گے۔ موجودہ حکمران کرپٹ بھی ہیں اور ملکی سالمیت کیلئے زہر قاتل بھی ہیں۔
شیخ رشید نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ماڈل ٹاؤن کے قاتلوں اور پانامہ کے مجرموں سے قوم کو نجات دلانا چاہتے ہیں۔ ملک پر مجرموں اور قبضہ گروپوں کی حکومت ہے، عوامی تحریک اور تحریک انصاف کو اکٹھا بیٹھنے پرمبارکباد پیش کرتا ہوں، دونوں جماعتوں کو اکٹھا دیکھنا محب وطن عوام کی بھی خواہش ہے۔ 3 ستمبر کو راولپنڈی میں کرپشن کے خلاف عوام کا انقلاب برپا ہو گا۔
تبصرہ