پاکستان عوامی تحریک کا 30 اگست تک 140 شہروں میں احتجاجی مظاہروں کے شیڈول کا اعلان
پاکستان عوامی تحریک کی سنٹرل کور کمیٹی کا ہنگامی اجلاس پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری کی زیر صدارت مرکزی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ’’قصاص و سالمیت پاکستان تحریک‘‘ کے سلسلے میں 20 اگست سے 30 اگست تک 10 روزہ احتجاجی مظاہروں، دھرنوں، جلسوں کے شیڈول کو حتمی شکل دے دی گئی۔ احتجاجی شیڈول کے مطابق 20 اگست کو لاہور، پشاور، حیدرآباد، لاڑکانہ، فیصل آباد، سبی، کوہاٹ، ڈیرہ مراد جمالی، مانسہرہ، سکھر، ڈیرہ اسماعیل خان سمیت 77 شہروں میں احتجاج و دھرنے ہونگے۔ 21 اگست کو گوجرانوالہ، سیالکوٹ، نارووال، حافظ آباد، منڈی بہاؤ الدین، گجرات سمیت 21 شہروں میں احتجاجی دھرنے ہونگے۔ 25 اگست کو ڈی جی خان، لیہ، راجن پور، مظفر گڑھ سمیت 11 شہروں میں احتجاج ہو گا۔ 27 اگست کو بہاولپور، لودھراں، بہاولنگر، رحیم یار خان سمیت 11 شہروں میں احتجاج ہو گا۔ 28 اگست کوراولپنڈی، کوئٹہ، کراچی، جہلم، چکوال، اٹک، ہری پور سمیت 20 شہروں میں احتجاجی مارچ و دھرنے ہونگے۔ قصاص و سالمیت پاکستان تحریک کے دوسرے احتجاجی فیز کا اعلان ڈاکٹر طاہرالقادری 30 اگست کو اسلام آباد کے احتجاج میں کرینگے۔ احتجاجی مظاہروں سے پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ویڈیو لنک پر خطاب کرینگے۔
پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے سنٹرل کور کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا احتجاج سانحہ ماڈل ٹاؤن کے قاتلوں سے قصاص لینے اور پاکستان کو معاشی و عسکری دہشت گردوں سے نجات دلوانے کیلئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ 17 جون 2014ء کے دن دہشتگرد حکمرانوں نے ہمارے کارکنوں کو جس طرح خون میں لت پت کیا میں اسے کسی صورت نظر انداز نہیں کر سکتا۔ شہداء کے ورثاء کو انصاف سے محروم کرنے والے اپنے انجام سے دور چار ہونے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ بالا احتجاجی جلسوں میں قوم کو بتائیں گے کہ کس طریقے سے آل شریف نے پاکستان کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا اور منافع بخش قومی ادارے ذاتی نوکروں کے حوالے کر کے انہیں خسارے والے ادارے بنایا اور پھر کس طریقے سے قومی دولت کو بیرون ملک منتقل کیا یہ سارے حقائق قوم کے سامنے لا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پانامہ لیکس کے انکشافات کرپشن کے سمندر کا ایک قطرہ ہیں۔ ابھی بہت سارے حقائق اور انکشافات منظر عام پر آنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں ایک بار پھر حکمرانوں کو خبردار کررہا ہوں کہ ہمارے پرامن احتجاج کے راستے میں رکاوٹ ڈالی گئی تو پھر حکمران 2014 ء کے دھرنے کو بھی بھول جائینگے۔
تبصرہ