سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس: انسداد دہشت گردی عدالت میں سماعت 19 ستمبر کو ہو گی
لاہور ہائیکورٹ سے استدعا ہے کہ نئی جے آئی ٹی پر جاری سٹے آرڈر ختم کر کے انصاف کی راہ ہموار کی جائے
مظلوموں کے حقوق کی جنگ عدالتوں کے ذریعے لڑ رہے ہیں: ترجمان لیگل ٹیم نعیم الدین چوہدری ایڈووکیٹ

لاہور (17 ستمبر 2026ء) سانحہ ماڈل ٹاؤن کی قانونی ٹیم کے سربرہ اور عوامی لائرز ونگ کے مرکزی صدر نعیم الدین چوہدری ایڈووکیٹ نے عدالت عالیہ اور انسداد دہشت گردی کی کارروائی کے حوالے سے بتاتے ہوئے کہا ہے کہ اے ٹی سی لاہور میں کیس کی آئندہ اہم سماعت 19 ستمبر 2026ء کو مقرر کی گئی ہے۔ مقدمے میں گواہوں کے بیانات اور استغاثہ پر جرح کی کارروائی جاری ہے اور ہم قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے عدالت کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں تاکہ مظلوموں کو حق مل سکے۔
نعیم الدین چوہدری ایڈووکیٹ نے لاہور ہائیکورٹ سے دہرائی گئی اپیل میں کہا کہ نئی تشکیل شدہ جے آئی ٹی کے امتناعی حکمِ امتناع (سٹے آرڈر) پر تمام فریقین کے دلائل اور بحث کو مکمل ہوئے دو سال سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے، اب صرف حتمی فیصلے کا انتظار ہے۔ عدالت عالیہ سے گزراش ہے کہ اس سٹے آرڈر کو ختم کر کے سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت بنائی گئی تحقیقاتی ٹیم کو اپنی رپورٹ اے ٹی سی میں جمع کروانے کی اجازت دی جائے، کیونکہ نئی جے آئی ٹی کی حتمی رپورٹ ہی سے سانحے کے پیچھے چھپے اصل حقائق اور منصوبہ ساز سامنے آ سکیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک دہائی سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود ہمارا اعتماد قانونی نظام پر برقرار ہے اور ہم آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے انصاف کے طالب ہیں۔ ہماری تمام تر امیدیں اور قانونی کاوشیں عدلیہ سے وابستہ ہیں، چاہے وہ انسداد دہشت گردی کی عدالت ہو، ہائیکورٹ ہو یا عدالت عظمیٰ، ہم ہر فورم پر مضبوط قانونی بنیادوں پر مقدمہ لڑ رہے ہیں۔ ہمیں کامل یقین ہے کہ بالآخر سچ کی فتح ہوگی اور شہداء کے خون سے انصاف ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ وکلاء کا پینل 19 ستمبر کو انسداد دہشت گردی عدالت لاہور کے سامنے پیش ہو گا۔


تبصرہ