سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین انصاف کے منتظر ہیں: نعیم الدین چوہدری ایڈووکیٹ
غیر جانب دارانہ تفتیش کے بغیر انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہو سکتے
آئین و قانون کے مطابق انصاف چاہتے ہیں: لیگل ترجمان

لاہور (19 اگست 2026ء) نعیم الدین چوہدری ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن ملکی تاریخ کا ایک المناک واقعہ ہے، جس کے متاثرین اور شہداء کے ورثا گزشتہ 12 سال سے انصاف کے منتظر ہیں۔ متاثرین نے طویل عرصہ گزرنے کے باوجود آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی قانونی و عدالتی جدوجہد جاری رکھی ہوئی ہے اور انصاف کے حصول تک یہ جدوجہد جاری رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ ستم ظریفی یہ ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کو آج تک شفاف اور غیر جانب دارانہ تفتیش کا مکمل حق بھی نہیں مل سکا۔ اے ڈی خواجہ کی سربراہی میں قائم جے آئی ٹی نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین اور ملزمان سے تفتیش مکمل کی، تاہم جے آئی ٹی کی کارروائی کے خلاف ملزمان نے لاہور ہائیکورٹ سے حکمِ امتناعی حاصل کر لیا، جس کے باعث گزشتہ کئی برس سے جے آئی ٹی کی کارروائی تعطل کا شکار ہے۔
نعیم الدین چوہدری ایڈووکیٹ نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے سات رکنی بنچ نے اس معاملے پر سماعت مکمل کی، تاہم تاحال فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مؤقف روزِ اول سے واضح ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی شفاف، غیر جانب دارانہ اور میرٹ پر مبنی تفتیش ہونی چاہیے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور تمام ذمہ دار کرداروں کا قانون کے مطابق تعین ہو۔ جب تک تفتیش کے تمام قانونی تقاضے پورے نہیں ہوتے اور ذمہ داروں کا تعین نہیں ہوتا، انصاف کے تقاضے مکمل نہیں ہو سکتے۔
لیگل ترجمان نے کہا کہ انصاف صرف شہداء کے ورثا اور متاثرین کا بنیادی حق نہیں بلکہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور ریاستی نظامِ عدل کی ساکھ کا بھی تقاضا ہے۔ شہدائے ماڈل ٹاؤن کے لواحقین اور متاثرین آج بھی عدالتوںکا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ بالآخر آئین و قانون کے مطابق انصاف ضرور ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم مقدمے کے تمام قانونی پہلو عدالتوں کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کر رہے ہیں اور انصاف کے حصول کے لیے ہر آئینی و قانونی راستہ اختیار کرتے رہیں گے۔


تبصرہ