بیوی کو دیا گیا تحفہ واپس نہ لینے کا عدالتی فیصلہ قابل قدر ہے: خرم نواز گنڈاپور
اسلام نے جو اصول 14 سو سال قبل وضع کیے تاحال انہیں مکمل طور پر نہیں اپنایا جا سکا
عائلی قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق بنانا ہوگا: سیکرٹری جنرل PAT

لاہور (30 جون 2026) پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ قابل تحسین ہے کہ شوہر کی جانب سے بیوی کو دیا جانے والا تحفہ بیوی کی ملکیت تصور ہوگا اور شوہر اسے واپس لینے کا حق نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام نے 14 سو سال قبل جو اصول وضع کیے تاحال انہیں مکمل طور پر نہیں اپنایا جاسکا۔انہوں نے کہا کہ اسلام نے چودہ سو سال قبل ہی میاں بیوی سمیت تمام معاشرتی اور عائلی معاملات کے حوالے سے واضح اصول متعین کر دیے تھے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق بیوی کو رضاکارانہ طور پر دیے گئے تحائف واپس مانگنا نہ صرف اخلاقی طور پر نامناسب ہے بلکہ اسلامی اقدار کے بھی منافی ہے۔
خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ آئین پاکستان 1973ء کو نافذ ہوئے 53 سال گزر چکے ہیں۔ آئین کے تحت اسلامی نظریاتی کونسل اور وفاقی شرعی عدالت جیسے اہم ادارے بھی قائم کیے گئے تاکہ ملک میں کوئی قانون یا قانونی طرزِ عمل قرآن و سنت کے منافی نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے سے یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ ملک کے قانونی اور معاشرتی نظام کو مکمل طور پر قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنے کے لیے ابھی بہت سا کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ریاستی اداروں، پارلیمان اور عدلیہ کو اسلامی احکامات کی روشنی میں عائلی اور معاشرتی قوانین کا جامع جائزہ لینا چاہیے تاکہ شہریوں کو بروقت اور حقیقی انصاف فراہم کیا جا سکے۔


تبصرہ